Al-Risala · March 2007 · page 3

سپردگی کی اسپرٹ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۳

سپردگی کی اسپرٹ

اسلام کا مطلب سپردگی (submission) ہے۔ یہی اسلام کی اصل اسپرٹ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ اسپرٹ بھر پور طور پر پیدا ہو جائے اس کے اندر فطری طور پر سپردگی کا مزاج (submissive nature) جنم لیتا ہے۔ یہی حقیقت ایک حدیث میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ مؤمن کی مثال میدان میں اُگے ہوئے نرم پودے جیسی ہے (مثل المؤمن كمثل خامة الزرع ) ہوا کا جھونکا آتا ہے تو وہ اس کے مقابلے میں نرمی کے ساتھ جھک جاتا ہے، وہ ایسا نہیں کرتا کہ کڑی چیز کی طرح کھڑا رہے خواہ وہ اس کے نتیجے میں ٹوٹ جائے۔ مومن کے اندر سپردگی کا یہ مزاج اصولی طور پر یا اعتقادی طور پر صرف خدا کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن اس کا عملی اظہار ہمیشہ انسان کی نسبت سے پیش آتا ہے۔ کیوں کہ خدا اس دنیا میں براہِ راست طور پر ہمارے سامنے موجود نہیں۔ عملی طور پر ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ خدا کی بات کسی انسان کی زبان سے ادا ہوتی ہے۔ یہ انسان ہے جو موجودہ دنیا میں خدا کی بات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے خدا کے لیے سپردگی کا امتحان ہمیشہ انسان کی نسبت سے لیا جاتا ہے نہ کہ براہِ راست خدا کی نسبت سے۔ یہ بات قرآن میں آدم اور ابلیس کے واقعے سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے جن اور ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم کے آگے جھکیں، مگر ابلیس نہیں جھکا۔ اس کے نتیجے میں ابلیس کو خدا کا نافرمان قرار دیا گیا۔ ابلیس خدا کے آگے سجدہ کرنے کے لیے تیار تھا مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں تھا کہ وہ آدم کے آگے سجدہ کرے۔ مگر اس کا سجدۂ خداوندی قبول نہیں کیا گیا، بلکہ سجدۂ انسانی سے انکار کی بنیاد پر اس کو خود خدا کے آگے سجدہ نہ کرنے والا قرار دیا گیا۔ سپردگی کی یہی اسپرٹ مومن کو ہر موقع پر خدا کا تابع دار بنائے رکھتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر سپردگی کی یہ صفت نہ ہو وہ سرکشی کا طریقہ اختیار کریں گے اور بطورِ خود یہ سمجھیں گے کہ ان کی منفی روش صرف ایک انسان کے مقابلے میں ہے، نہ کہ خدا کے مقابلے میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page