جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۵
(peaceful campaigns) تھیں، مثلاً غزوہ تبوک (9 ہجری)، یا جنگ کی حالت پیدا ہونے کے باوجود جنگ سے اعراض، مثلاً غزوہ خندق (5 ہجری) یا بعض واقعات کی صورت میں صرف جھڑپیں (skirmishes)۔ غزوہ خیبر (7 ہجری) کی نوعیت اسی قسم کی ہے۔
جنگ کے باقاعدہ واقعات بھی اس طرح ہوئے کہ اُن میں عملاً صرف آدھے دن کی لڑائی ہوئی، یعنی دوپہر کے بعد جنگ کا آغاز اور شام تک جنگ کا خاتمہ، جیسا کہ غزوہ بدر اور غزوہ احد اور غزوہ حنین کے موقع پر پیش آیا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن کے لیے جنگ کی۔
2- حدیث کی کتابوں میں دوسرے ابواب کے ساتھ عام طور پر کتاب الفتن کا باب ہوتا ہے۔ اس باب کے تحت، بہت سی ایسی حدیثیں آئی ہیں، جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت کے ساتھ امت کو یہ حکم دیا کہ تم لوگ کسی بھی حال میں وقت کے حاکموں سے جنگ نہ کرنا۔ آپ نے فرمایا کہ تمھارے نزدیک خواہ حکم رانوں میں کتنا ہی بگاڑ کیوں نہ آجائے، لیکن تم اُن کے خلاف لڑائی نہ چھیڑنا۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر ایسے حالات میں ہم کیا کریں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹوں اور اپنی بکریوں کو لے کر پہاڑیوں میں چلے جاؤ، یا کسی کے پاس زمین ہے تو وہ اپنی زمین میں جاکر کاشت کرنے لگے (مشکاۃ المصابیح، جلد 3، صفحہ 1482)۔
اسی بنا پر علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکم رانوں کے خلاف خروج کرنا، یا اُن سے جنگ کرنا اہل اسلام کے لیے جائز نہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، شرح نووی، جلد 12، صفحہ 129)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صریح احکام اور علماے اسلام کے اس پر اتفاق عام کی بنا پر یہ ہوا کہ امت میں عوام اور حکم رانوں کے درمیان سیاسی ٹکراؤ کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ پیغمبر اسلام کے بعد تقریباً بارہ سو سال تک مسلم حکومتیں ساری دنیا میں قائم رہیں۔ اُن میں ہر طرح کے سیاسی بگاڑ بھی پیش آئے، لیکن وقت کے علما نے کبھی اُن کے خلاف سیاسی ٹکراؤ یا سیاسی جنگ نہیں چھیڑی۔
مفسرین اور محدثین، فقہا اور علما ہمیشہ اپنے علمی دائرے میں مشغول رہے۔ اُنھوں نے کبھی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues