مَردے از غیب بروں آید و کارے کند
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۲۳
جب کہ کوئی آنے والا‘‘ پراسرار طور پر آئے گا اور معجزاتی طور پر بڑے بڑے کام کر ڈالے گا۔ اس تصور نے مسلمانوں کے اندر ذہنی جمود (intellectual stagnation) کی حالت پیدا کر دی ہے۔ ان کے اندر سے تخلیقی فکر (creative thinking) کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ دین کی دعوت کے لیے کسی بڑے کام کا حوصلہ ان کے اندر موجود نہیں۔ عام انسانوں کے لیے ذمہ داری کا کوئی احساس وہ اپنے اندر نہیں پاتے۔ ان کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ اپنے اور اپنے اہل خاندان کے معاملات کو درست کرنے میں لگے رہیں، اس کے علاوہ انسانیت عامہ کی نسبت سے جو وسیع تر ذمہ داریاں ہیں، ان کے سلسلے میں ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ کسی آنے والے کا انتظار کرتے رہیں۔ ’’مردے از غیب‘‘ کے اس عقیدے کا انجام یہ ہوا ہے کہ ان میں سے تقریباً ہر شخص کے اندر ایک کم زور شخصیت پیدا ہو گئی ہے۔ ہر ایک کا یہ حال ہے کہ اپنے ذاتی مفاد کے معاملے میں وہ آخری حد تک باعمل ہے، اور انسانیت عامہ کے مفاد کے معاملے میں آخری حد تک بے عمل۔ وہ اکرام خویش کو جانتا ہے لیکن وہ اکرام غیر کو نہیں جانتا۔ اس کے پاس اپنوں کے لیے دعائیں ہیں اور ’’اغیار‘‘ کے لیے صرف بد دعائیں۔ اپنے لیے تو انھوں نے جنت الفردوس میں رزرویشن کرا رکھا ہے، لیکن دوسری قوموں کو جہنم سے بچانے کی ان کو کوئی فکر نہیں۔ وہ اپنے معاملات کے بارے میں آخری حد تک خوش فہم بنا ہوا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی کمزوریاں مسلمانوں کے اندر عام طور پر پیدا ہوگئی ہیں اور یہ صرف اس بات کا نتیجہ ہیں کہ موجودہ مسلمانوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ دینی دعوت کا کوئی بڑا کام صرف اس وقت انجام پائے گا جب کہ پراسرار طور پر ایک معجزاتی شخصیت، ہندو اصطلاح کے مطابق، اچانک پر کٹ ہو جائے گی اور پھر وہ خود ہی تمام مسلمانوں کے حصے کا کام کر ڈالے گی۔
اس قسم کے تمام خیالات بلا شبہہ بے بنیاد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں مہدی اور مسیح کے نام سے مستقبل کے جن کرداروں کا ذکر آیا ہے، وہ کردار کے حوالے سے مواقع کی پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں تاریخی عمل (process) کے نتیجے میں نئے قسم کے عظیم مواقع ظاہر ہوں گے۔ اُس وقت یہ ممکن ہو جائے گا کہ کوئی خدا کا بندہ ان
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues