Al-Risala · March 2008 · page 22

مَردے از غیب بروں آید و کارے کند

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۲۲

استدلال واحد استدلال ہے جو اس دنیا میں ممکن ہے، سیکولر حقیقتوں کو ثابت کرنے کے لیے بھی اور مذہبی حقیقتوں کو ثابت کرنے کے لیے بھی۔

یہ حقیقت اُس وقت سامنے آئی، جب کہ بیسویں صدی میں سائنس کی تحقیقات عالم کبیر (macro world) سے گزر کر عالم صغیر (micro world) تک پہنچ گئیں۔ جب تک انسان کا علم عالم کبیر تک محدود تھا، یہ سمجھا جاتا تھا کہ چیزیں قابل مشاہدہ ہیں، صحیح استدلال وہی ہے جو مبنی بر مشاہدہ ہو، لیکن بیسویں صدی میں جب انسانی علم ترقی کر کے عالم صغیر تک پہنچ گیا تو معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز قابل مشاہدہ نہیں۔ علم کی اس ترقی کا فکری نتیجہ تھا کہ استدلالی منطق میں تغیر واقع ہو گیا۔ اب یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال بھی اتنا ہی معقول (valid) ہے، جتنا کہ براہ راست استدلال۔ اصول استدلال میں اس تبدیلی سے الہیات یا علم کلام میں بنیادی تغیر واقع ہو گیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ مذہب کے تصورات کو ٹھیک اسی منطقی بنیاد پر ثابت کیا جاسکے، جس بنیاد پر اس سے پہلے غیر مذہبی تصورات کو ثابت کیا جاتا تھا۔ ان مذہبی تصورات میں وہ تمام تصورات شامل ہیں جن کو مذہبی عقائد کہا جاتا ہے۔ مثلاً توحید، ملائکہ، نبوت، آخرت، جنت اور جہنم، وغیرہ۔ اس طرح منطقی اعتبار سے وہ فرق باقی نہ رہا جو روایتی طور پر مذہبی علم اور سیکولر علم کے درمیان سمجھا جاتا تھا۔ اب استدلالی بنیاد کے اعتبار سے دونوں کی سطح بالکل یکساں ہوگئی ہے۔ یہ بہت بڑا علمی انقلاب ہے جو جدید دور میں پیش آیا ہے۔ مہدی اور مسیح کی آمد حدیث کی کتابوں میں کئی ایسے کردار کا ذکر ہے جو تاریخ انسانی کے آخری دور میں ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے دو کردار وہ ہیں جن کے لیے حدیث میں مہدی اور مسیح کے الفاظ آئے ہیں۔ ان روایتوں کو لے کر مسلمانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ ذہن بن گیا ہے جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

مَردے از غیب بروں آید و کارے کند

یعنی وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دین خداوندی کے سلسلے میں کوئی بڑا کام اُس وقت انجام پائے گا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page