Al-Risala · March 2008 · page 25

دابۃ کا دور

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵

ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ انتظار کا وقت ختم ہو گیا ۔ خدا کی طرف سے فائنل کال آگئی۔ اب نہ الون ٹافلر (Alvin Toffler) جیسے سیکولر مفکرین کے لیے سپر سوئیلائزیشن کی آمد کا انتظار کرنے کا موقع ہے اور نہ اُمت محمدی کے لیے اس انتظار کا موقع کہ مہدی اور مسیح کی صورت میں پر اسرار طور پر کسی شخصیت کا ظہور ہو گا اور وہ خدا کا مطلوب دعوتی کام عالمی سطح پر انجام دے دے گا۔ اب انتظار کرنے والوں کے لیے جو چیز مقدر ہے، وہ کسی طلسماتی شخصیت کا ظہور نہیں، بلکہ صورِ اسرافیل کا اعلان ہے۔ پیغمبر خاتم پر ایمان رکھنے والوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی توانا ئی کا ہر حصہ دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں۔ وہ اسرافیل کے فائنل اعلان سے پہلے اپنے حصے کا کام کر دیں۔

دابۃ کا دور

دعوتی پیغام کو پھیلانے کے دو ذریعے ہیں۔ قول اور تحریر ۔ قدیم زمانے میں ان دونوں طریقوں کو دعوت کے لیے استعمال کیا گیا، لیکن سائنسی دور سے پہلے دونوں ذریعے صرف محدود دائرے میں استعمال ہو سکتے تھے۔ داعی کا قول صرف وہ لوگ سن سکتے تھے جو اس کے قریب موجود ہوں۔ یہی معاملہ تحریر کا تھا۔ قدیم زمانے میں کوئی داعی صرف ہاتھ سے کسی لوح یا کاغذ پر اپنا پیغام لکھ سکتا تھا۔ ہاتھ سے لکھنے کے سوا کوئی اور ذریعہ اُس وقت موجود نہ تھا۔ اس محدودیت کی بنا پر حق کا داعی صرف اپنے قریبی دائرے میں حق کا پیغام پہنچانے کی استطاعت رکھتا تھا۔ گویا کہ قدیم زمانے میں ہر داعی ایک مقامی داعی کی حیثیت رکھتا تھا، نہ کہ بین اقوامی داعی کی حیثیت۔

موجودہ سائنسی دور میں کمیونیکیشن میں غیر معمولی انقلاب آیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار انسان کو وہ چیز حاصل ہوئی جس کو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے۔ اس طرح جدید ذرائع ابلاغ نے قول اور تحریر دونوں کے اندر تیز رفتاری کی صفت پیدا کردی۔ اب انسان کو وہ چیز حاصل ہو گئی جس کو فاصِلاتی پیغام رسانی (telecommunication) کہا جاتا ہے۔

غالباً یہی وہ متحرک ذریعہ ہے جس کو قرآن میں دابۃ (النمل: 82) کہا گیا ہے۔ دابۃ کے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page