Al-Risala · March 2008 · page 26

دابۃ کا دور

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

لفظی معنی ہیں رینگنے والا (creeper)، یعنی وہ چیز جو متحرک ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے۔ قرآن کا یہ ارشاد کہ بعد کے زمانے میں ایک دابۃ ظاہر ہوگا، اس سے مراد غالباً یہی تیز رفتار مشینی حرکت کا دور ہے جو سائنسی انقلاب کے بعد سامنے آیا ہے۔ تیز نشریاتی ذرائع کی اس تکنیک نے مختلف صورتیں پیدا کی ہیں، جن کے مجموعے کو موجودہ زمانے میں ملٹی میڈیا (multimedia) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخرالزماں کو سارے عالم کے لیے نذیر بنا کر بھیجا ہے (الفرقان: 1) مگر ساتویں صدی کے رُبع اوّل میں جب کہ پیغمبر آخرالزماں کا ظہور ہوا، اُس وقت عالمی ذرائع ابلاغ کا ظہور عمل میں نہیں آیا تھا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آئندہ وہ زمانہ آنے والا ہے، جب کہ خدا اسلام کے کلمہ کو ساری دنیا کے تمام گھروں میں پہنچادے (لايبقى على وجه الأرض بيت مدر ولا وبر، إلا أدخله الله كلمة الإسلام)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، دعوت کی تاریخ میں ایک مسلسل عمل (process) کو ظہور میں لانے کے ہم معنی تھا۔ آپ کے ذریعے ایک ایسا دعوتی عمل ظہور میں آیا، جس کا آغاز عرب سے ہوا اور پھر ایک مسلسل عمل (process) کے روپ میں وہ بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ سارے عالم پر محیط ہو گیا۔

مگر اسباب کی اس دنیا میں ہر دعوتی کام انسانوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ دورِ اول میں اسلام کا پھیلاؤ اصحاب رسول کے ذریعے ہوا تھا، بعد کے زمانے میں بھی یہ دعوتی عمل ایک انسانی گروہ کے ذریعے انجام پائے گا۔ غالباً اسی لیے حدیث میں بعد کے زمانے میں ظاہر ہونے والے ایک گروہ کا ذکر ہے جس کو اِخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روایتی کمیونیکیشن کے دور میں یہ دعوتی کام اصحاب رسول کے ذریعے انجام پائے گا، اور سائنسی کمیونیکیشن کے دور میں یہ دعوتی کام اُن لوگوں کے ذریعے انجام پائے گا جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کا نام دیا گیا ہے۔ اصحاب رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا: من سرّه أن يكون من هذه الأمة، فليؤدّ شرط الله فيها (ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 396) یعنی جو شخص اصحاب رسول کی اِس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page