ایک گذارش
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷
ضروری ہے کہ وہ مسلسل طور پر فکری خوراک لیتا رہے، جن کی حیثیت ایمان کی ترقی کے لیے بوسٹر فوڈ (booster food) کی ہے۔ اس طرح کے بوسٹر ڈوز کے بغیر زندہ ایمان کا حصول ممکن نہیں۔ اس کے بغیر آدمی کا ایمان صرف ایک قانونی ایمان بن کر رہ جائے گا، وہ ربانی ایمان کا درجہ حاصل نہ کر سکے گا۔ کان اور آنکھ اور عقل کے حوالے سے حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے آدمی کا ذوق، خداوندی ذوق (divine taste) بن جاتا ہے۔ وہ حیوانی ذوق سے اوپر اٹھ کر ذوق کی اُس اعلیٰ سطح پر پہنچ جاتا ہے جس کو ربانی ذوق سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ حیوان کی سوچ اس کی ابتدائی ضرورتوں تک محدود رہتی ہے۔ انسان کی سوچ اس سے وسیع ہوتی ہے، لیکن وہ بھی اپنی ذات کے دائرے میں عمل کرتی ہے۔ اس کے برعکس، خدا کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اس قسم کی تمام محدودیتوں سے برتر ہوتا ہے۔ جب کوئی آدمی حقیقی معنوں میں 'نوافِل' کی کثرت کرتا ہے تو بلا تشبیہہ اس کی ذات میں خدا سے ایک قسم کی مماثلت کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے ہر معاملے میں فطرت کا رنگ غالب آجاتا ہے۔ اس کی سوچ آفاقی سوچ بن جاتی ہے۔ اس کی پوری شخصیت خدا کے تخلیقی نقشے میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی وہ ربانی شخصیت ہے جس کو مذکورہ حدیث میں مخصوص تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ایک گذارش
ماہ نامہ الرساله سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر وابستہ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ وہ دعوتی رابطے کی آسانی کے لیے اپنا ای میل اور ٹیلی فون نمبر روانہ فرمادیں۔ نمبر بدل جانے کی صورت میں دوبارہ ضرور مطلع فرمائیں۔ مطلوبہ تفصیل موبائل پر ایس ایم ایس کے ذریعے بھی روانہ کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں تین چیزوں کی وضاحت ضروری ہوگی۔ نام، مقام، اور خریداری نمبر۔ Email: info@goodwordbooks.com Mobile: 9910035369
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues