فرائض اور نوافل
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
تو وسیع مفہوم اپنے آپ شامل ہو جاتا ہے، جن کا اوپر ذکر کیا گیا۔
آدمی جب ایمان قبول کرتا ہے تو وہ کلمۂ شہادت ادا کرتا ہے۔ کلمۂ شہادت، اسلام میں داخلے کا دروازہ ہے۔ یہ داخلہ اسلام کا آغاز ہے، اس کی منزل نہیں۔ اس داخلے کے بعد بار بار ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے ایمان میں اضافہ ہوتا رہے۔ اس اضافے کو قرآن اور حدیث میں 'ازدیاد ایمان' کہا گیا ہے۔ اضافے کا یہ عمل، ایمان کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس عمل کے بغیر آدمی کا ایمان جامد ایمان بن جائے گا، وہ زندہ ایمان کی حیثیت سے باقی نہ رہے گا۔
میڈیکل اصطلاح میں ایک لفظ ہے، جس کو بوسٹر ڈوز (booster doze) کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر جب مریض کو ایک دوا دیتا ہے تو صرف ایک خوراک دینا کافی نہیں ہوتا۔ ایک خوراک کے بعد دوا کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بار بار مزید خوراکیں دینی پڑتی ہیں۔ دوا کی اس مزید خوراک کو بوسٹر ڈوز کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ صحت مند انسان کا بھی ہے۔ صحت مند انسان بھی بار بار غذائی خوراک لیتا ہے۔ صبح کے ناشتے کے بعد دوبارہ وہ دوپہر کا کھانا کھاتا ہے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ پھر رات کا کھانا کھاتا ہے۔ اس طرح غذاؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ بار بار کی غذا بھی بوسٹر فوڈ (booster food) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی آدمی ایک بار کھانا کھا لے اور اس کے بعد وہ پھر کبھی نہ کھائے تو ایسا آدمی اپنی صحت کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔
ایمان کے لیے نفلی اعمال اسی طرح اضافی (additional doze) کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان اضافی خوراکوں کے بغیر کسی آدمی کا ایمان، زندہ اور متحرک ایمان نہیں بن سکتا۔ ان اضافی خوراکوں میں جس طرح معروف عبادتی اعمال شامل ہیں، اسی طرح اس میں توسّم، تذکّر اور تدبّر جیسے ذہنی اعمال بھی لازمی طور پر شامل ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مطالعہ اور تدبّر کے ذریعے مسلسل طور پر اپنے ذہنی ارتقا کا سامان کرتا رہے، ورنہ اس کا ایمان، جامد ایمان بن کر رہ جائے گا۔
جامد ایمان اور زندہ ایمان کے درمیان وہی فرق ہے جو ہری بھری شاخ اور سوکھی لکڑی کے درمیان ہوتا ہے۔ جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ اس کا ایمان سوکھی لکڑی جیسا بن کر نہ رہ جائے، اُس کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues