ایک گذارش
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳۹
لیکن کوئی بھی شخص لمبی مدت تک جینے کا موقع نہیں پاتا۔ سو سال کے اندر ہی اچانک وہ لمحہ آجاتا ہے جس کو موت کہتے ہیں۔ موت ایک ناقابل واپسی فیصلے کے طور پر ہر شخص کے اوپر آتی ہے اور اچانک قبل از موت مرحلہ حیات سے جدا کر کے اُس کو بعد از موت مرحلہ حیات میں پہنچادیتی ہے۔
موت کو اس اعتبار سے شکستِ تاریخ (break in history) کا معاملہ کہا جاسکتا ہے۔ شکستِ تاریخ کا یہ واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ معاملہ ہے کہ وہ اپنی ساری طاقت خرچ کر کے اپنی امیدوں اور اپنی تمناؤں کی ایک دنیا بناتے ہیں۔ ہر انسان اپنی بنائی ہوئی اس دنیا میں جی رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کے لیے موت کا وقت آجاتا ہے۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس بنائی ہوئی دنیا کو چھوڑ کر اچانک ایک اور دنیا میں پہنچ جائے، جس کے لیے اُس نے کچھ نہیں کیا تھا۔ اُس کے پیچھے اس کی بنائی دنیا ہوتی ہے جس کو وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ چکا، اور اس کے آگے ایک ابدی صحرا ہوتا ہے جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا۔ یافت کے احساس میں جینے والا انسان اچانک کامل محرومی کے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔
قبل از موت کا مرحلہ حیات ہر انسان کے لیے پہلا اور آخری موقع ہے، اس کے بعد کسی کو دوسرا موقع ملنے والا نہیں۔ اس پہلے موقع کو جس شخص نے صرف دُنیوی ساز و سامان کی فراہمی میں لگایا، وہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں کامل محرومی میں جینے پر مجبور ہوگا۔ کیوں کہ موت اس کی پچھلی تاریخ کو اُس سے جدا کر دے گی، اور موت کے بعد دوبارہ نئی تاریخ بنانے کا موقع اُس سے ہمیشہ کے لیے چھن چکا ہوگا۔ کیسا عجیب ہے آج کا وہ موقع جس کو انسان کھو رہا ہے، اور کیسی بھیانک ہوگی کل کی وہ محرومی جس سے انسان دوچار ہوگا، اور جس سے اپنے آپ کو بچانا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues