کامیابی کا فارمولا
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۴۰
کامیابی کا فارمولا
ایک صاحب نے پوچھا کہ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ کامیاب زندگی کا انحصار دو چیزوں پر ہے۔ آدھا عمل پر، اور آدھا بے عملی پر۔ اُن کو میرا یہ جواب بہت عجیب معلوم ہوا۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ عمل یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کریں۔ بے عملی یہ ہے کہ آپ دوسروں سے نہ ٹکرائیں۔ جب بھی دوسروں کے ساتھ کوئی شکایت کی بات آئے تو اُس وقت آپ اُن کے مقابلے میں بے عمل بن جائیں، یعنی دوسروں سے الجھے بغیر اپنا سوچا سمجھا کام جاری رکھیں۔ موجودہ دنیا میں کامیابی کے لیے یہ دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ اس اصول کا تعلق، انفرادی کامیابی سے بھی ہے اور اجتماعی کامیابی سے بھی۔ انفرادی معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کسی چیز کو لینے کے لیے لائن (قطار) میں کھڑے ہوئے ہیں۔ بعد کو ایک آدمی آتا ہے اور وہ لائن توڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے اور اپنا کام پہلے کر لیتا ہے۔ ایسے موقع پر آپ خاموش مشاہد بن جائیے۔ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ اپنا کام کیجئے اور خاموشی کے ساتھ واپس چلے جائیے۔ یہ انفرادی معاملے میں ”بے عملی“ کی مثال ہے۔ اس طرح کے معاملے میں اگر آپ غصہ ہو جائیں اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں تو آپ کا ایسا کرنا ہمیشہ خود آپ کے نقصان کا باعث ہوگا۔
اجتماعی معاملے کی ایک مثال پالکس آف اپوزیشن ہے۔ آج کل ہر لیڈر یہ کر رہا ہے کہ وہ کوئی سماجی مسئلے لے کر اتھارٹی کے خلاف احتجاج (protest) کی مہم چلا دیتا ہے۔ اس طریق کار کے نتیجے میں لیڈر کو تو مقبولیت مل جاتی ہے، لیکن سماج کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملتا۔ یہاں بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے خلاف احتجاجی مہم چلانے کے بجائے تعمیر کے میدان میں کوئی مثبت کام کیا جائے۔ مثلاً تعلیم کا میدان۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے عمل جتنا زیادہ ضروری ہے، اتنا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بے عمل ہونے کا فن بھی جانتے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues