ازدواجی زندگی
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲
ازدواجی زندگی
18 اکتوبر 2007 کو میں آل انڈیا ریڈیو پر ایک خصوصی پروگرام سن رہا تھا، سر و گرامه شادى شتمل ہوتا ہے۔ منگنی کی رنگ ، شادی کی رنگ اور مصیبت کی رنگ :
شادی شدہ زندگی کا ناخوش گوار زندگی بن جانا، موجودہ زمانے کا ایک عام مسئلہ ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے بہت سے ماڈرن لڑکوں اور لڑکیوں سے بات کرنے کے بعد سمجھا ہے کہ اس مسئلے کا بڑا سبب وہ جدید تصور ہے، جس کو صنفی مساوات (gender equality) کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ ہر اجتماعی نظام کے لیے ہمیشہ ایک ناظم درکار ہوتا ہے۔ ناظم کے بغیر کسی اجتماعی ادارے کا قیام ممکن نہیں۔
ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کے رشتے میں بندھ کر ایک خاندان بناتے ہیں تو وہ ایک اجتماعی زندگی کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہر خاندان ایک اجتماعی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کو درست طور پر چلانے کے لیے بھی ایک ناظم درکار ہے۔ مرد اپنی فطری ساخت کی بنا پر ناظم کی ذمے داری کو زیادہ بہتر طور پر سنبھال سکتا ہے۔ اسی لیے مرد کو خاندانی زندگی کا قوام (النساء: 34) بنایا گیا ہے۔ قوام سے مراد عین وہی چیز ہے، جس کو موجودہ زمانے میں باس (boss) کہا جاتا ہے۔ باس ازم (bossism) ہر تنظیم یا اجتماعی ادارے کی ایک فطری ضرورت ہے، اور خاندان بلا شبہہ اس سے مستثنیٰ نہیں۔ شادی شدہ خواتین اگر اپنے شوہر کو گھر کے اندر اُسی طرح باس مان لیں، جس طرح وہ دفتر میں کسی کو اپنا باس مان کر اپنا کام معتدل طور پر کرتی ہیں، تو اس کے بعد شادی شدہ زندگی کا تیسرا ٹریشن کی رفتار میں کمی آ جاتی ہے اور وہ دوسری پہلو (suffering) اپنے آپ ختم ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues