Al-Risala · March 2008 · page 41

کثرت کے درمیان قلّت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱

کثرت کے درمیان قلّت

سموئیل ٹیلر کولرج (Samuel Tailor Coleridge) مشہور انگریزی شاعر ہے۔ وہ 1772 میں پیدا ہوا، اور 1834 میں اس کی وفات ہوئی۔

اس کی ایک مشہور نظم ہے جس کا نام ہے۔ قدیم ملاح (The Ancient Mariner)۔ اس نظم میں وہ دکھاتا ہے کہہ ملاح اپنی کشتی لے کر سمندر میں سفر کر رہا ہے۔ اس کے بعد کشتی طوفان کی زد میں آ جاتی ہے۔ کشتی تباہ ہو جاتی ہے۔ ملاح ایک تختے کو پکڑ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے۔ وہ تختہ سمندر میں موجوں کے سہارے تیرنے لگتا ہے۔

ملاح کو پیاس لگتی ہے۔ اس کے چاروں طرف اگر چہ پانی ہے، مگر سخت کھاری ہونے کی وجہ سے وہ پینے کے قابل نہیں۔ یہ منظر دیکھ کر ملاح کہ اٹھتا ہے۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہے، مگر ایک قطرہ بھی پینے کے لیے نہیں:

Water, water everywhere, Nor a drop to drink. یہ بات جو مذکورہ ملاح نے سمندر کے پانی کے بارے میں کہی، وہ عمومی اعتبار سے بھی درست ہے۔ آج کی دنیا میں پوری انسانیت مذکورہ ملاح کے مانند ہے جس کے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے، مگر پینے کے لیے ایک قطرہ بھی نہیں۔

پریس کے دور نے ہر طرف چھپے ہوئے کاغذات کا انبار لگا دیا ہے، مگر ایسے صفحات بہت کم ہیں جو واقعہ پڑھنے کے قابل ہوں۔ دنیا کے بازار پر رونق سامان سے بھرے ہوئے ہیں، مگر وہ سامان کہیں نظر نہیں آتا جو انسان کی روح کو سکون دینے والا ہو۔ زمین پر جہاں بھی دیکھیے، انسانی سرگرمی کا طوفان دکھائی دے گا، مگر وہ سرگرمی کہیں نظر نہیں آتی جو اس کو حقیقی منزل کی طرف لے جانے والی ہو۔ دنیا انسانوں سے بھری ہوئی ہے مگر وہ انسان معدوم ہورہے ہیں جو اُن فطری اوصاف کے حامل ہوں جن پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page