Al-Risala · April 2008 · page 7

جدال احسن کیا ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۷

جدال احسن کیا ہے

جدال (discussion) کے دو طریقے ہیں۔ ایک، احسن اور دوسرا، غیر احسن۔ جدال احسن یہ ہے کہ زیر بحث مسئلے پر مسلمہ دلیل کی روشنی میں اظہار خیال کیا جائے۔ مثلاً حضرت ابراہیم کا معاصر بادشاہ خدائی کا دعوے دار تھا۔ آپ نے اس کے دعوے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کہا کہ خدا، سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اس کو مغرب سے نکال دو (البقرہ: 258)۔ سورج کا مشرق سے نکلنا اور مغرب میں ڈوبنا مسلمہ طور پر ایک برتر طاقت کا عمل تھا، اس لیے مذکورہ بادشاہ اس کے مقابلے میں مبہوت ہو کر رہ گیا۔ جدال غیر احسن یہ ہے کہ آپ فریق ثانی کے خلاف کوئی مسلمہ دلیل نہ دیں، اس کے برعکس، آپ یہ کریں کہ اُس کے خلاف صرف منفی ریمارک (negative remark) دیں، لفظی طور پر اس کی مذمت کریں اور بیانیہ انداز میں اس کو غلط بتائیں۔ یہ جدال غیر احسن ہے، اس سے کبھی مطلوب نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اسی قسم کے جدال غیر احسن سے مسلمانوں کو روکنے کے لیے قرآن میں یہ حکم دیا گیا کہ: اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، اُن کو تم بُرا نہ کہو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو بُرا کہنے لگیں گے (الأنعام: 109)۔

قرآن، توحید کی کتاب ہے۔ سارا قرآن براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، توحید کا بیان ہے، مگر یہ تمام بیانات دلائل کی زبان میں ہیں۔ کیوں کہ دلیل کی زبان ہی میں کوئی قول، قولِ بلیغ (النساء: 63) بنتا ہے۔ مگر قرآن میں اس کو پسند نہیں کیا گیا کہ کوئی شخص توحید کے مسئلے کو سب وشتم کی زبان میں بیان کرے۔ کیوں کہ ایسے اسلوب سے مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ ایسے اسلوب کا نتیجہ ہمیشہ منفی ہوتا ہے، ایسے اسلوب کے ذریعے کبھی مثبت نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

جدال غیر احسن کے اس معاملے کی ایک مثال حدیثِ رسول میں یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ کے ایک یہودی اور مسلمان کے درمیان نبوت کے مسئلے پر تکرار ہوئی۔ یہودی نے کہا: ان اللہ اصطفی موسیٰ علی العالمین (اللہ نے موسیٰ کو تمام دنیا والوں پر افضل

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page