Al-Risala · April 2008 · page 8

جدال احسن کیا ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۸

بنایا)۔ اس کوسن کر مسلمان نے یہودی کو تھپڑ مارا اور کہا کہ تم غلط کہتے ہو، اللہ نے محمد کو تمام دنیا والوں پر افضل بنایا ہے (إن الله اصطفى محمداً علی العالمین)۔

اس کے بعد مذکورہ یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ سے اس معاملے کی شکایت کی۔ اس کوسن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو گئے، یہاں تک کہ غضب آپ کے چہرے پر ظاہر ہو گیا۔ آپ نے کہا کہ اللہ کے نبیوں کو ایک دوسرے پر افضل نہ بتاؤ (لا تفضلوا بین انبیاء الله)، کیوں کہ قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، تو زمین اور آسمان کے تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، سوا اس کے جس کو خدا چاہے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، پھر میں پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آکر کھڑا ہوگا۔ پھر میں دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش الہی کو پکڑ کر کھڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش ہوئے تھے اور پھر ہوش میں آگئے، یا اللہ نے اُن کو بے ہوشی سے مستثنیٰ رکھا (صحیح البخاری ومسلم، به حوالہ: جامع الأصول فی أحادیث الرسول، رقم الحدیث: 6308)۔

اس روایت میں قابل غور بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو کچھ نہیں کہا، آپ نے یہودی کو گستاخ رسول قرار نہیں دیا۔ آپ اُس وقت مدینہ میں حاکم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے اس معاملے میں یہودی کی طرف سے بالکل صرف نظر فرمایا۔ آپ نے صرف مسلمان کو نصیحت کی۔ آپ نے مسلمان کو ہمیشہ کے لیے اس قسم کے رویے سے باز رہنے کا حکم دیا۔ دوسری بات جو اس واقعے سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ اسلام میں تفضیل اور تفاخر کی زبان استعمال کرنا مطلقا ممنوع ہے۔ اہل ایمان کو جس طرح سب وشتم کی زبان سے مکمل طور پر بچنا ہے، اُسی طرح اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ تفضیل اور تفاخر کی زبان سے مکمل طور پر اپنے آپ کو دور رکھیں۔ سب وشتم کی زبان اگر نفرت کا ماحول پیدا کرتی ہے تو تفضیل اور تفاخر کی زبان استعمال کرنے سے بے جا فخر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اور دونوں ہی کا مشترک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان معتدل تعلقات ختم ہوجاتے ہیں، اور جہاں لوگوں کے درمیان معتدل تعلقات نہ ہوں، وہاں دعوت کا عمل بھی مؤثر طور پر جاری نہیں رکھا جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page