Al-Risala · January 2008 · page 14

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۴

کے تصور سے آشنا نہیں، جب کہ انسان کے اندر کل یا مستقبل کا تصور نہایت طاقت ور صورت میں موجود ہے۔ مگر ہر انسان کا عملی تجربہ اس کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ مطلوب مستقبل اُس کے لیے سرے سے قابل حصول نہیں۔

اس حقیقت کے اندر ایک اشارہ (clue) چھپا ہوا ہے۔ یہ اشارہ آدمی کو بتاتا ہے کہ وہ جس مطلوب مستقبل کو چاہتا ہے، وہ مطلوب مستقبل اس کی محدودیت کی بنا پر اس کے لیے موجودہ دنیا میں مقدر نہیں۔ اس مطلوب مستقبل کو پانے کے لیے اُسے موجودہ دنیا میں ضروری تیاری کرنا چاہیے، تا کہ وہ موت کے بعد آنے والے مرحلہ حیات میں وہ اپنے اس مطلوب مستقبل کو پاسکے۔

موجودہ دنیا کا معاملہ ایک امتحان ہال جیسا ہے۔ امتحان ہال میں اسٹوڈنٹ کی ناگزیر ضرورتوں کا محدود انتظام تو ہوتا ہے، لیکن اس کی تمام خواہشوں کی تکمیل کا سامان وہاں نہیں ہوتا۔ اس لیے جو اسٹوڈنٹ، امتحان ہال کو صرف امتحان ہال سمجھے، وہ مایوسی میں مبتلا نہیں ہوگا۔ لیکن جو اسٹوڈنٹ، امتحان ہال کو اپنی خواہشوں کی تکمیل کا مقام سمجھ لے، اُس کو وہاں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، موجودہ دنیا ٹیسٹ کے لیے بنی ہے۔ یہاں جو لائف سپورٹ سسٹم ہے، وہ صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ ٹسٹ (امتحان) کے مقصد کے لیے ضروری ہے۔ اب جو لوگ اس دنیا کو ٹسٹنگ گراؤنڈ (testing ground) سمجھیں اور اس کے مطابق زندگی گزاریں، ان کے اندر کبھی مایوسی کی نفسیات پیدا نہیں ہوگی۔ لیکن جو لوگ موجودہ دنیا کو اپنی خواہشوں کی تکمیل کا مقام سمجھ لیں، اُن کو سخت مایوسی کا تجربہ ہوگا۔ کیوں کہ جو کچھ وہ چاہتے تھے، اس کی تکمیل کا انتظام خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق ،یہاں کیا ہی نہیں گیا تھا۔

موجودہ سیارہ زمین پر زندگی کا درست اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ آدمی، خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اس دنیا کو عیش کا مقام نہ سمجھے، بلکہ وہ اس کو ٹسٹ (امتحان) کا مقام سمجھے۔ ایسا آدمی، خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق یہاں زندگی گزارے گا اور اس کے نتیجے میں وہ ابدی کامیابی حاصل کرے گا۔ ٹسٹ کے مزاج کے تحت کسی انسان کی جو زندگی بنتی ہے، وہ اُس سے بالکل مختلف ہوتی ہے جو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page