Al-Risala · January 2008 · page 13

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۳

نے بے پناہ لذت رکھی ہے۔ انسان کے لیے دیکھنا بھی ایک انتہائی لذتیر تجربہ ہے، چھونا بھی ایک لذید تجربہ ہے، چکنا بھی ایک لذید تجربہ ہے، سونگھنا بھی ایک لذید تجربہ ہے اور سننا بھی ایک لذید تجربہ۔ اس کائنات میں کسی بھی دوسری مخلوق کے اندر، بشمول حیوانات، ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی صلاحیت نہیں۔ یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وہ کسی چیز سے انتہائی لطیف قسم کی محظوظیت (pleasure) حاصل کر سکتا ہے۔

اسی کے ساتھ انسان کے اندر چھٹی حس (sixth sense) بھی موجود ہے۔ یہ چھٹی حس سوچنے کی صلاحیت (thinking capacity) ہے۔ یہ چھٹی حس، انسان کے لیے سب سے زیادہ اعلیٰ لذت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سوچنا، انسان کی ایک انوکھی صفت ہے۔ سوچنا، انسان کے لیے اتھاہ لذت کا خزانہ ہے۔ سوچنے کا فعل بظاہر دکھائی نہیں دیتا، مگر وہ انسان کو ایسی سپر لذت دیتا ہے جس کا حصول کسی بھی دوسری چیز کے ذریعے ممکن نہیں۔

اسی کے ساتھ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان ان لذتوں کو محسوس تو کرتا ہے، لیکن وہ موجودہ دنیا میں ان لذتوں کی تسکین کا سامان نہیں پاتاہر آدمی بے پناہ لذتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور پھر تھوڑی مدت کے بعد ہر عورت اور ہر مرد غیر تکمیل شدہ خواہشات (unfulfilled desires) کے ساتھ مرجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے پاس خواہشیں ہیں، لیکن یہاں اُس کے لیے خواہشات کی تکمیل کا سامان موجود نہیں۔ یہ حقیقت اس بات کا حتمی اشارہ ہے کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، ان خواہشات کی تکمیل کا سامان، قبل از موت مرحلۂ حیات میں نہیں رکھا گیا، بلکہ وہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں رکھا گیا ہے۔ یہ خواہشیں انسان کو اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ حقیقتِ حیات کو سمجھے اور اُس کے مطابق، وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔

اسی کے ساتھ اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور پایا جاتا ہے۔ حیوانات بظاہر زندہ مخلوق کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن کسی بھی حیوان کے اندر کل' کا تصور نہیں پایا جاتا۔ حیوانات کا محدود مائنڈ صرف حاضر (present) کو جانتا ہے، مستقبل (future)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page