جنت اور انسان
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱
جنت اور انسان
غالباً 1998 کی بات ہے، ڈاکٹر مہیش چندر شرما نے مجھے دہلی کے ایک سینئر اسکالر سے ملایا۔ یہ پروفیسر نونہال سنگھ (پیدائش: 1923) تھے۔ امریکا سے رٹائر ہو کر آنے کے بعد یہاں ان کو راجیہ سبھا کا ممبر (1998-1992) بنا دیا گیا تھا۔ اُن کا گھر ایک کتب خانہ معلوم ہوتا تھا۔ اِس میں ہر طرف لکھنے پڑھنے کا ماحول تھا۔ وہ پورے معنوں میں ایک اسکالر دکھائی دیتے تھے۔
ملاقات کے وقت انھوں نے بتایا کہ پولٹیکل سائنس میں انھوں نے ایم اے کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے انٹرنیشنل ریلیشنس (international relations) کے سبجیکٹ پر ڈاکٹریٹ کیا۔ اُس زمانے میں امریکا کی ایک یونیورسٹی کو اپنے لیے اس موضوع پر ایک پروفیسر کی ضرورت تھی۔ اُس کا اشتہار دیکھ کر پروفیسر سنگھ نے اس کے لیے اپنی درخواست بھیج دی۔ جلد ہی انھیں یونی ورسٹی کی طرف سے ایک لیٹر ملا، اس میں انھیں انٹرویو کے لیے امریکا بلایا گیا تھا۔
وہ امریکا پہنچے تو ائیر پورٹ پر ایک صاحب اُن سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ میں یونی ورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں، تاکہ یہاں میں آپ کو گائیڈ کروں۔ اس کے بعد اُس آدمی نے پروفیسر سنگھ کو اپنی گاڑی پر بٹھایا اور اُن کو لے کر یونی ورسٹی پہنچا۔ یونی ورسٹی میں پروفیسر سنگھ کو وہاں کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا۔ اس کے بعد وہ آدمی روزانہ پروفیسر سنگھ کے پاس آتا اور ان کو لے کر صبح سے شام تک یونی ورسٹی کے وسیع کیمپس میں گھماتا رہتا۔ اس طرح وہ آدمی پروفیسر سنگھ کو یونی ورسٹی کے ہر شعبے میں لے گیا اور یونی ورسٹی کی ہر سرگرمی میں انھیں شامل کیا۔ مثلاً لائبریری، ڈائننگ ہال، کلاس روم، ٹیچرس کلب، اسٹوڈنٹس میٹنگ، یونی ورسٹی ورکرس، وغیرہ۔
اس طرح ایک ہفتہ گزر گیا۔ پروفیسر سنگھ کو تشویش ہوئی۔ انھوں نے اپنے ڈپارٹمنٹ کے چیئر مین سے کہا کہ میں ایک ہفتے سے یہاں ہوں ۔ مجھے انٹرویو کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن اب تک میرا انٹرویو نہیں ہوا۔ چیئر مین نے کہا کہ آپ کا انٹرویو ہو چکا ہے۔ ہم نے آپ کا سلیکشن کر لیا ہے، اور اب
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues