Al-Risala · April 2008 · page 20

Bulldoze them all.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰

ہے، لیکن یہ انڈسٹری بھی شور اور کثافت جیسی نامطلوب چیزوں سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اسی طرح پانی کو دیکھیے۔ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ بڑے بڑے سمندروں کی صورت میں ہماری زمین پر موجود ہے۔ اس ذخیرے میں تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر تقریباً 10 فی صد نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر وہ براہِ راست طور پر انسان کے لیے قابلِ استعمال نہیں۔ یہاں بارش کی صورت میں ایک عظیم آفاقی عمل جاری ہے، جس کو از الۂ نمک (desalination) کا عمل کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ناقابلِ بیان حد تک ایک عظیم انڈسٹری ہے، لیکن یہ انڈسٹری کسی قسم کی کوئی کثافت پیدا نہیں کرتی۔ یہی معاملہ انسانی خوراک کا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ خوراک غلہ اور سبزی اور پھل اور دودھ اور مچھلی اور گوشت، وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ تمام خوراک بھی مسلسل طور پر انسان کے لیے وجود میں لائی جا رہی ہے۔ یہ عمل بھی ایک عظیم انڈسٹری کے ذریعے انجام پاتا ہے، لیکن یہاں بھی انسانی صنعتوں کی مانند کوئی کثافت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ دو مختلف قسم کے تجربے ہیں۔ ایک، انسانی تہذیب کی انڈسٹری اور دوسرے، ڈوائن نیچر کی انڈسٹری۔ انسانی تہذیب کی انڈسٹری ہمارے لیے خوشیوں اور راحتوں کی دنیا بنانے میں ناکام ہے۔ وہ راحت کے سامان وجود میں لانے کی کوشش میں مصیبتوں کا ایک نیا جنگل اُگا دیتی ہے۔ دوسری طرف، عین اُسی وقت، ڈوائن نیچر کی انڈسٹری راحت کے تمام سامان پیدا کر رہی ہے، لیکن وہ مکمل طور پر ایک بے کثافت انڈسٹری ہے، نہ کہ انسانی انڈسٹری کی طرح پر کثافت انڈسٹری۔ اب اگر قدیم کہانی کے مطابق، دیوارِ کو موت کی دیوار قرار دیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس دیوار کے ایک طرف دنیا ئے گریہ (wailing world) ہے، اور اس دیوار کے دوسری طرف دنیا ئے قہقہہ (laughter world) ہے۔ اکیسویں صدی میں پہنچ کر تہذیب انسانی کی ناکامی ہمیں ایک نیا پر اُمید سبق دے رہی ہے، وہ یہ کہ ہم ’’دیوار‘‘ کے اس طرف ناکام طور پر اپنی دنیا ئے قہقہہ بنانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ’’دیوار‘‘ کے دوسری طرف کی ’’ دنیا ئے قہقہہ ‘‘ میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں، جو کہ بروقت ہی ڈوائن نظام کے تحت ’’دیوار‘‘ کے دوسری طرف موجود ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page