Al-Risala · April 2008 · page 26

دورِ امن کا آغاز

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

دورِ امن کا آغاز

جنوری 2008 میں ایک غیر متوقع خبر میڈیا میں آئی ۔ وہ یہ کہ متشددانہ جہاد کے لیڈر اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے نے اعلان کیا کہ وہ اپنے باپ سے الگ ہو گئے ہیں اور اب وہ امن کے لیے کام کریں گے۔ عمر بن اسامہ کی عمر 26 سال ہے۔ انھوں نے ایک انگریز خاتون (Jane Felix-Browne) سے شادی کی ہے۔ اُن کا موجودہ نام زینہ الصباح (Zaina Alsabah) ہے۔ خاتون کی عمر 52 سال ہے۔ عمر بن اسامہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ میرے باپ اسامہ بن لادن نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مگر وہ طریقہ غلط تھا۔ اب میں مسلمان اور مغربی دنیا کے درمیان ایمپیسڈراف پیس (ambassador of peace) کا کردار ادا کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے وہ نارتھ افریقہ میں پانچ ہزار کلومیٹر کی ایک ہارس ریس (horse race) کریں گے۔ انگریزی اخبار (The Times of India) کے شمارہ 19 جنوری 2008 میں یہ خبر اس عنوان کے تحت چھپی ہے— اسامہ کا بیٹا امن کا پیام بر بننا چاہتا ہے:

Osama's son wants to be a peacenik

انھوں نے کہا کہ— اسلام کے دفاع کے لیے القاعدة کی اختیار کردہ ملیٹنسی سے زیادہ بہتر طریقہ اسلام میں موجود ہے:

There is a better way to defend Islam, than Al-Qaida’s militancy (p. 22)

عمر بن اسامہ بن لادن نے مذکورہ بات ایسوسی ایٹیڈ پریس (A.P) کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہی تھی۔ اس کے بعد مشہور ٹی وی چینل سی این این (CNN) نے اُن سے انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (23 جنوری 2008) نے اس کی رپورٹ مندرجہ ذیل عنوان کے تحت چھاپی ہے:

Osama's son wants father to 'give up violence, find another way'

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page