Al-Risala · January 2008 · page 16

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶

اسراف، پانی میں اسراف، بولنے میں اسراف، وغیرہ۔ اس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی اسراف کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دے گا۔ لسٹ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہر معاملے میں اپنے آپ کو اخلاقی قدروں کا پابند سمجھے گا۔ اس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے لیے ساری اہمیت اپنے ذاتی انٹرسٹ کی ہوگی، نہ کہ کسی برتر اخلاقی معیار کی۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اس معاملے میں ساری اہمیت اس بات کی ہے کہ مختلف أحوال کے درمیان آدمی کے اندر کس قسم کی شخصیت پرورش پارہی ہے — ربانی شخصیت، یا غیر ربانی شخصیت۔ موجودہ دنیا میں آدمی جس طرح اپنے جسمانی وجود کے لیے مادی غذا حاصل کرتا ہے، اسی طرح اپنے روحانی وجود کے لیے بھی اس کو مسلسل روحانی غذا (spiritual food) درکار ہوتی ہے۔ یہی روحانی غذا اس کے اندر ربانی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔

روحانی غذا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کے سامنے جب سچائی آئے تو اس کا انکار کرنے کے بجائے وہ اس کا اعتراف کرے، خواہ سچائی کا پیش کرنے والا اُس کا اپنا آدمی ہو، یا وہ اُس کا غیر ہو۔ وہ حالات کے زیر اثر نہ سوچے، بلکہ حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر ذہن کے تحت اپنی رائے بنائے اس کی زندگی شکر اور اعتراف کی زندگی ہو، نہ کہ ناشکری اور بے اعترافی کی زندگی۔ وہ منفی تجربے کا بھی مثبت انداز میں جواب دے، وہ اپنی ملی ہوئی آزادی کو خود عائد کردہ ڈسپلن کے تحت استعمال کرے ۔ وہ ہر حال میں انصاف کی بات کہے، خواہ انصاف کی بات خود اُس کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو۔ وہ دنیا کے وقتی فائدے کے بجائے، آخرت کے ابدی فائدے کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھے ۔ اُس کی سرگرمیوں کا نشانہ، آخرت کی ابدی کامیابی کا حصول ہو، نہ کہ صرف دنیا کی وقتی کامیابی کا حصول۔ جو لوگ موجودہ دنیا کو اپنے لیے ٹسٹنگ گراؤنڈ سمجھیں اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کریں، وہ آخرت میں خالق کے پڑوس میں ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ دنیا کو صرف انجوائے منٹ کی جگہ سمجھیں، وہ آخر کار اس بھیانک نتیجے سے دوچار ہوں گے کہ اُن کے لیے آخرت کی ابدی دنیا میں محرومی اور حسرت کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page