sight, touch, taste, smell and hearing
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۷
دعوت الی اللہ
دعوت اور تبلیغ کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف بلانا۔ انسان کو اس کے خالق اور مالک کے ساتھ جوڑنا۔ اللہ کی طرف بلانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو یہ بتایا جائے کہ اللہ کی زمین پر تمھارے لیے زندگی کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ تم اللہ کے بندے بن کر رہو۔ انسان کے لیے دنیا کی زندگی میں صرف دو رویے ممکن ہیں۔ ایک، خودرخی اور دوسرا، خدارخی۔ خود رخی رویے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خود اپنی ذات کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے، وہ اپنی سوچ کے مطابق چلے، وہ اپنے خواہشوں کی پیروی کرے، وہ اپنے ذاتی تقاضوں کی تکمیل کو زندگی کی کامیابی قرار دے۔ اس کے مقابلے میں خدارخی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کا ماتحت سمجھے، وہ اپنے جذبات کو خدا کے تابع بنائے۔ اس کے نزدیک زندگی کی کامیابی یہ ہو کہ وہ خدا کی پسند کے مطابق جিয়ে اور خدا کی پسند ہی پر اس کا خاتمہ ہو جائے۔
خودرخی زندگی میں گھمنڈ اور حسد اور انانیت جیسے جذبات جاگتے ہیں۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ حق وہ ہے جس کو وہ حق سمجھے اور باطل وہ ہے جس کو وہ باطل قرار دے۔
خدارخی زندگی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ خدارخی زندگی آدمی کے اندر عبدیت، تواضع، اعتراف اور خود احتسابی جیسے جذبات ابھارتی ہے۔ پہلی صورت میں انسان اگر خود پرست بن جاتا ہے تو دوسری صورت میں خدا پرست۔
دعوت الی اللہ یہ ہے کہ آدمی کو خودرخی زندگی کے برے انجام سے آگاہ کیا جائے اور اس کو خدارخی زندگی اختیار کرنے کی دعوت دی جائے۔ ان دونوں قسم کی زندگیوں کو جاننے کا معتبر اور مستند ماخذ خدائی تعلیمات ہیں، جو قرآن کی صورت میں محفوظ طور پر ہمارے پاس موجود ہیں۔ دعوت الی اللہ کا کام ایک خالص اُخروی نوعیت کا کام ہے۔ قومی یا اقتصادی یا سیاسی معاملات سے براہِ راست اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ انسان کو خدا اور آخرت کی طرف بلانے کی ایک مہم ہے۔ اسی دینی اور روحانی اسلوب میں وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues