Al-Risala · April 2008 · page 32

اعلیٰ ذوق

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۳۲

اعلیٰ ذوق

دنیا میں سب سے زیادہ کمی کس چیز کی ہے۔ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دنیا میں سب سے زیادہ کمی اعلیٰ ذوق (high taste) کی ہے۔ اعلیٰ ذوق بلا شبہ سب سے زیادہ کم یاب چیز ہے۔ اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اعلیٰ ذوق کے لوگ ہی موجودہ دنیا میں اعلیٰ روحانی ترقی حاصل کرتے ہیں، اور اعلیٰ ذوق کے لوگ ہی آخرت میں جنت کے اعلیٰ درجات کو پائیں گے۔

لوگوں کے اندر اعلیٰ ذوق نہ ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ گہری باتیں کہنے والے افراد لوگوں کے درمیان مقبول نہیں ہوتے ، اس طرح لوگ گہری دانش مندی کی باتوں سے بے خبر رہ جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ سطحی باتیں کرنے والے لوگ عوام کے درمیان مقبول ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ اعلیٰ انسانی ترقی سے محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر فخر پسندی ایک پست ذوق کی چیز ہے، اور تواضع پسندی اعلیٰ ذوق کی چیز۔ فخر (pride) کا تعلق جذبات سے ہے۔ اس لیے ہر آدمی کے اندر، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، فخر کے جذبات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اس لیے جب کوئی شخص ایسی باتیں کرے جس سے لوگوں کو فخر کی غذا مل رہی ہو، تو وہ اس کی باتوں پر تالیاں بجاتے ہیں۔ ایسے انسان کے پاس بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس ، تواضع (modesty) کا تعلق گہری دانش مندی سے ہے۔ صرف اعلیٰ ذوق کے لوگ ہی تواضع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ چناں چہ جو شخص تواضع کی بولی بولے، اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا نہیں ہوتی۔ ایسے انسان کی بات اعلیٰ ذوق کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں اور وہی اُس کے گرد جمع ہو سکتے ہیں۔ اس لیے تواضع کے بول بولنے والے انسان کے گرد وہ بھیڑ اکٹھا نہیں ہوتی، جو فخر کے بول بولنے والے انسانوں کے گرد اکٹھا ہو جاتی ہے۔

ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ ذوق پیدا کرے۔ اعلیٰ ذوق اس بات کا ضامن ہے کہ آدمی اعلیٰ روحانی حالت میں جئے گا، اور موت کے بعد جنت کے اعلیٰ درجات حاصل کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page