Al-Risala · April 2008 · page 31

موت کا شعور

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۳۱

موت کا شعور

لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا محدود مدت کے بعد مر جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ نہایت عجیب بات ہے کہ کوئی شخص خود اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ وہ دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر خود اپنی موت کے بارے میں وہ غفلت میں پڑا رہتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ڈی این اے (DNA) کی دریافت اس سوال کا جواب ہے۔ یہ ایک نئی سائنس ہے۔ اس پر دنیا کے بڑے بڑے دماغوں نے کام کیا ہے۔ اس میں انڈیا کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر ہرگوبند کھورانا (85سال) کانام بھی شامل ہے۔ اس جدید تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر انسان کے جسم میں تقریباً ایک سو ٹریلین سیل (living cells) ہوتے ہیں۔ ہر سیل کے نیوکلئس میں ایک ناقابل مشاہدہ ڈی این اے موجود رہتا ہے۔ ڈی این اے کے اندر انسانی شخصیت کے بارے میں تمام چھوٹی بڑی معلومات کوڈ کی صورت میں موجود رہتی ہیں۔ یہ معلومات اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ اگر ان کو ڈی کوڈ (decode) کیا جائے، تو وہ برطانیہ جیسی ضخیم انسائیکلو پیڈیا کے ایک ملین سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہوں گی: One human DNA molecule contains enough information to fill a million-page encyclopaedia. ڈی این اے کے اندر انسانی شخصیت کے بارے میں تمام معلومات درج ہوتی ہیں، مگر اس فہرست میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ موت ہے۔ ڈی این اے کی طویل فہرست موت کے تصور سے خالی ہے۔ موت کا تصور انسانی شخصیت (human consciousness) میں موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، لیکن وہ خود اپنی موت کے بارے میں سوچ نہیں پاتا۔ یہی انسان کا امتحان ہے۔ موت کسی شخص کے اوپر ڈی این اے کی پروگرامینگ کے تحت نہیں آتی، بلکہ وہ براہ راست خدائی فیصلے کے تحت آتی ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے اندر اینٹی پروگرامینگ سوچ پیدا کرے۔ وہ خدائی فیصلے کی نسبت سے موت کے معاملے کو دریافت کر لے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page