عُذر نہیں
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
عُذر نہیں
انگریزی زبان کے ایک مشہور مقولے میں نہایت درست طور پر کہا گیا ہے کہ ــــ اگر تمھارے پاس ایک بہترین عذر ہو، تب بھی تم اس کو استعمال نہ کرو:
If you have a good excuse, don't use it.
عذر (excuse) انسانی زندگی میں ہر وقت پیش آتا رہتا ہے۔ کوئی بھی گھر یا کوئی بھی سماج عذر سے خالی نہیں۔ ایسی حالت میں اگر عذر کو عذر بنایا جائے تو آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ ہر وقت وہ کسی نہ کسی عذر میں پھنسارہے گا، اور جو کرنے کا کام ہے، اس کو وہ نہ کر سکے گا۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ دو قسم کے اعذار (excuses) میں فرق کیا جائے۔ ایک، معمولی عذر (usual excuse) اور دوسرا، غیر معمولی عذر (unusual excuse)۔ معمولی عذر یہ ہے کہ گھر میں مہمان آجائیں، سر میں کچھ درد ہو جائے، کسی کو اسپتال میں دیکھنے کے لیے جانا ہو، خاندانی تقریب میں شرکت، کسی کی آمد پر اس کا استقبال (receive) کرنا اور اس کو بھیجنے (see off) کے لیے جانا، پیدائش اور موت کے واقعات، وغیرہ۔ یہ سب معمول کے عذر ہیں۔ ایسے عذر کو کسی ذمے داری کے سلسلے میں عذر بنانا درست نہیں۔
دوسرا عذر وہ ہے جو غیر معمولی عذر کی حیثیت رکھتا ہو، یعنی شدید قسم کا ناگہانی واقعہ۔ اس دوسرے قسم کے عذر کو مجبور کُن عذر (compulsive excuse) کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ عذر ہے جو آدمی کے لیے سخت معذوری (crippling) کا سبب بن جاتا ہے۔
جب صورت حال یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی اعذار (excuses) سے بھری ہوئی ہے تو ہر با مقصد انسان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ عذر سے اوپر اٹھ جائے، تا کہ مقصدِ حیات کے اعتبار سے جو بڑا کام اس کو کرنا ہے، اُس بڑے کام کو وہ انجام دے سکے۔ جو آدمی ایسا نہ کرے، وہ عذر کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ جائے گا اور کوئی بڑا کام انجام نہ دے سکے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues