یاد دہانی کی موت
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۵
یاد دہانی کی موت
نصیر احمد خاں بنارسی گڈورڈ بکس اور مکتبہ الرسالہ کے ایک ممبر تھے۔ 16 مارچ 2008 کو دہلی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ بوقتِ انتقال ان کی عمر تقریباً 50 سال تھی۔ اُس وقت وہ تندرستی کی حالت میں تھے۔ بہ ظاہر موت کے کوئی آثار نہ تھے، مگر 16 مارچ کو ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا اور اُس میں اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔
موت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک، متوقع موت (expected death) اور دوسری، غیر متوقع موت (unexpected death)۔ متوقع موت وہ ہے، جب کہ انسان بوڑھا ہو گیا ہو، وہ بیمار ہو کر بستر پر پڑ جائے اور لوگ پیشگی طور پر سمجھ لیں کہ اب اس کا آخری وقت آ گیا ہے۔ ایسی موت کو لوگ ایک ہونے والا واقعہ سمجھتے ہیں، وہ اُس سے اپنے لیے کوئی سبق نہیں لیتے۔
دوسری موت وہ ہے جو غیر متوقع ہو۔ اس طرح کی موت میں ایسا ہوتا ہے کہ مرنے والا ابھی جوانی کی عمر میں ہوتا ہے۔ وہ تندرست حالت میں اپنا کام کر رہا ہوتا ہے اور پھر اچانک اس کی موت آ جاتی ہے۔ ایسی موت کو عام طور پر بے وقت کی موت (untimely death) کہا جاتا ہے۔ مگر ایسی موت بے وقت کی موت نہیں ہوتی۔ زیادہ صحیح طور پر وہ یاد دہانی کی موت (reminder death) ہوتی ہے۔ وہ ایک چشم کشا موت ہوتی ہے، تاکہ لوگ موت کو یاد کر کے اپنی اصلاح کر لیں۔ جو واقعہ معمول کے طور پر پیش آئے، اُس کے بارے میں لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ مگر جو واقعہ غیر معمولی طور پر یا خلاف توقع پیش آئے، وہ لوگوں کے لیے ایک دھماکہ خیز واقعہ بن جاتا ہے۔ ایسا واقعہ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مذکورہ قسم کی موت ایسا ہی ایک دھما کہ خیز واقعہ ہے۔ وہ لوگوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔ ایسا ایک واقعہ گویا کہ بیداری کا ایک الارم ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سونے والو جاگو، کیوں کہ اب غفلت کا وقت ختم ہو چکا۔ عام موت ایک خاموش سبق ہے، اور مذکورہ قسم کی موت ایک بولتا ہوا سبق۔