Al-Risala · May 2008 · page 4

قیامت کا زلزلہ

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۴

زمین پر شدید زلزلوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ جیسا کہ اسکینڈی نیویا (Scandinavia) کے علاقے میں دس ہزار سال پہلے پیش آیا تھا۔

گلوبل وارمنگ اور اس کے متعلق پہلوؤں پر موجودہ زمانے میں وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعے کا ایک حصہ یہ ہے کہ زمین کے نارتھ پول اور ساؤتھ پول میں پہاڑ کی مانند برف کے بڑے بڑے تودے (glaciers) ہیں۔ ان تودوں کے نیچے بڑے بڑے آتش فشاں پہاڑ (volcanoes) چھپے ہوئے ہیں۔ یہ آتش فشاں پہاڑ محصور توانائی (pent-up energy) کے بھاری ذخیرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے اوپر برف کے تودے گویا کہ بڑے بڑے فطری ڈھکن تھے جو اس آتش فشاں کو پھٹ کر باہر آنے سے روکے ہوئے تھے۔

گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے یہ برفانی ڈھکن تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اُن کا پگھلا ہوا پانی سمندروں میں شامل ہو رہا ہے۔ اس طرح شدید طور پر یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ نارتھ پول اور ساؤتھ پول کا برفانی ڈھکن بہت جلد پگھل کر ختم ہو جائے اور ان کے اندر چھپا ہوا آتش فشاں پھٹ کر آگ اور لاوا کی صورت میں باہر آجائے۔

یہ صورت حال زمین کے اوپر ہر قسم کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہوگی۔ کوئی بھی انسانی تدبیر ان کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے گی۔ بالواسطہ یا براہ راست طور پر اس کا اثر تمام انسانی آبادیوں تک پہنچ جائے گا۔

حالات بتاتے ہیں کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ موجودہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے اور ایک نئی دنیا بنے، جہاں خدا کا عدل قائم ہو۔ جہاں نیک لوگوں کو جنت میں داخلہ ملے، اور بُرے لوگوں کو جہنم کے عذاب خانے میں ڈال دیا جائے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہر زندہ عورت اور مرد اِس آنے والے انصاف کے دن (Day of Judgement) کے لیے تیاری کریں جو بہر حال آکر رہے گا اور جو آنے کے بعد پھر واپس جانے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page