اسلام کی سیاسی تعبیر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۸
اسلام کی سیاسی تعبیر
پانچ ستمبر 2007 کو تمام اخباروں کے پہلے صفحے کی ایک نمایاں خبر یہ تھی کہ پاکستان کے عسکری شہر راول پنڈی میں دو بم پھٹے ۔ اس کے نتیجے میں پچیس آدمی مر گئے اور ستر آدمی زخمی ہوئے ۔ بقیہ نقصانات اس کے علاوہ ہیں ۔ اس کو دیکھ کر ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ پاکستان، اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا، پھر وہاں اتنا زیادہ تشدد کیوں ہے ۔ 1947 میں پاکستان بننے کے بعد اُس کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں کو کراچی کی سڑک پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ اُس وقت سے لے کر اب تک وہاں مسلسل تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا کیوں ہے ۔
میں نے کہا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان، اسلام کے نام پر بنا، مگر صحیح بات یہ ہے کہ پاکستان پولیٹکل اسلام کے نام پر بنا، اور اسلام اور پولیٹکل اسلام میں اتنا ہی دوری ہے جتنا کہ گاندھی اور دہشت گرد گاندھی میں ۔
موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں ٹرر ازم کے خلاف تقریریں ہو رہی ہیں۔ امریکا نے جارج بش سینئر اور جارج بش جونئر کے زمانے میں تاریخ کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کی، لیکن ٹرر ازم کو ختم کرنے کے معاملے میں یہ فوجی کارروائی مکمل طور پر ناکام رہی۔ میں نے اس کارروائی سے پہلے پیشگی طور پر یہ کہہ دیا تھا کہ موجودہ ٹرر ازم کا معاملہ گن ورسز گن (gun vs gun) کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک آئڈیالوجی(counter کا معاملہ ہے اور اس کا مقابلہ کاؤنٹر آڈیالوجی (counter ideology) ہی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ میں نے نئی دہلی کے اخبار ٹائمس آف انڈیا کو اس معاملے میں ایک انٹرویو دیا تھا۔ یہ انٹرویو مذکورہ اخبار کے شمارہ 16 ستمبر 2001 میں اس عنوان کے تحت چھپا تھا کہ— امریکا کی متشددانہ کارروائی، اُس کے خلاف صرف الٹا نتیجہ ثابت ہوگی :
US Aggression would be counter-productive.
مگر اب تمام لوگ اس کا اعتراف کر رہے ہیں کہ عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی