US Aggression would be counter-productive.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۹
ایک واضح غلطی تھی۔ برطانیہ کے سابق جنرل مائک جیکسن (Mike Jackson) نے کہا کہ امریکہ کا یہ فوجی اقدام ایک ذہنی دیوالیہ پن (intellectual bankruptcy) کے ہم معنی تھا (ٹائمس آف انڈیا، 4 ستمبر 2007)۔
یہ معاملہ بہت زیادہ غور و فکر کا معاملہ ہے۔ یہاں خاص طور پر ہم کو یہ سمجھنا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اتنا زیادہ تشدد کیسے آگیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اتنے زیادہ تشدد پسند کیوں ہو گئے کہ اب وہ اُس کی آخری حد پر جا کر جگہ جگہ خود کش بم باری (suicide bombing) کرنے لگے۔ میرے نزدیک ، اس تشدد پسندی یا لوگوں کے دیے ہوئے نام کے مطابق ، ٹُر ازم کی ذمے داری صرف اُن مسلم گروہوں تک محدود نہیں ہے جو براہِ راست طور پر اس میں ملوث ہیں۔ کیوں کہ راقم الحروف کے واحد استثنا کو چھوڑ کر، پوری مسلم دنیا میں غالباً کوئی بھی قابلِ ذکر عالم دین یا رہ نما نہیں جو کھلے طور پر اس کو غیر اسلامی فعل بتائے۔ اس لیے اسلامی اصول کے مطابق ، اگر کچھ تشدد پسند مسلمان اس میں براہ راست طور پر شریک ہیں تو بقیہ لوگ اس میں بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں میں یہ تشدد پسندی کیسے آئی اور کیسے وہ اتنا زیادہ پھیل گئی کہ ساری مسلم دنیا میں راقم الحروف کو چھوڑ کر کوئی بھی کھلے طور پر اس کی مذمت کرنے والا نہیں ۔ میرے مطالعے کے مطابق ، اس کا سبب نہایت گہرا ہے۔ اس کے پیچھے ماضی کی تقریبا ہزار سالہ تاریخ کی روایات ہیں۔ اُس کو جب تک گہرائی کے ساتھ سمجھا نہ جائے ، اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ یہاں ہم پوری تاریخ کے پس منظر میں اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سوچنے کا جو فریم ورک دیا تھا، وہ غیر سیاسی فریم ورک (non-political framework) تھا۔ لیکن بعد کو لوگوں میں سوچ کا سیاسی فریم ورک (political framework) رائج ہو گیا۔ یہی اِسمعاملے کی اصل جڑ ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا تو وہاں کے سرداروں نے آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر، آپ کو یہ پیش کش کی کہ اگر آپ بادشاہی