Al-Risala · May 2008 · page 13

I have not been sent to you for this purpose.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۳

اقتدار قائم ہو۔ اور دار الحرب سے مراد وہ علاقہ، جہاں غیر مسلم آباد ہوں اور جن سے مسلمان امکانی طور پر بر سر جنگ (potentially at war) ہوں۔ یہ تقسیم بلا شبہ بے اصل تھی، لیکن وہ اتنا عام ہوئی کہ وہ مسلم فکر کا جزو بن گئی۔ اس فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ وسیع تر انسانیت، مسلمانوں کو غیر دکھائی دینے لگی، وسیع تر انسانیت اُن کا کنسرن نہ رہی۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت کا ذہن مسلمانوں سے تقریباً معدوم ہوگیا۔ دعوت ہمیشہ انسان کی خیر خواہی کے جذبے سے ابھرتی ہے۔ اور جن لوگوں کے اندر انسان کی خیر خواہی نہ رہے، وہ انسان کے اوپر دعوت کا عمل بھی نہیں کریں گے۔

پولٹکل طرزِ فکر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک منفی طرزِ فکر ہے۔ اُس کا نتیجہ ہمیشہ تفریق کی صورت میں نکلتا ہے۔ پولٹکل ایکٹوزم کا نتیجہ کبھی مثبت صورت میں نہیں نکلا ہے اور نہ کبھی اس کا نتیجہ مثبت صورت میں نکل سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پولٹکل ایکٹوزم کو اسلام میں تقریباً حرام کا درجہ دے دیا۔ اس سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں، اُن کے مطابق، مسلمانوں کے لیے صرف یہی ایک انتخاب ہے کہ وہ غیر سیاسی میدان میں پر امن دعوہ ورک کریں۔ سیاسی ٹکراؤ یا سیاسی اپوزیشن جیسی چیزیں اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون جہادِ اسلامی تاریخ میں مطبوعہ: ماہ نامہ الرسالہ، مارچ 2008) موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو اپنی پولٹکل سوچ کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دورِ جدید کے ایک عظیم امکان سے بالکل بے خبر رہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ عظیم امکان غیر سیاسی میدان میں تھا، اور موجودہ زمانے کے مسلم علما اور رہ نما اپنے سیاسی ذہن کی بنا پر اس جدید تبدیلی کو سمجھ ہی نہ سکے۔ دوسری قوموں نے اس جدید امکان کو سمجھا اور اس کو استعمال کیا، لیکن مسلمان اُس سے بالکل فائدہ نہ اٹھا سکے۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ اپنی بے شعوری کی بنا پر سیاست کی چٹان پر اپنا سر پٹکتے رہے اور ایک طرفہ طور پر صرف اپنے نقصان میں اضافہ کرتے رہے— اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس پورے معاملے پر نظر ثانی کر کے نئے حالات میں دعوت الی اللہ کے کام کی از سرِ نو منصوبہ بندی کی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page