I have not been sent to you for this purpose.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲
کی جو کتابیں مدوّن کیں، اُن میں انھوں نے دعوت کا باب سرے سے قائم نہیں کیا۔ حدیث کے مجموعوں میں آپ ’کتاب الصلاۃ‘ ’کتاب الجہاد‘ جیسے عنوانات پائیں گے، لیکن حدیث کے کسی بھی مجموعے میں آپ کو ’کتاب الدعوۃ و التبلیغ‘ نہیں ملے گا۔
یہی معاملہ فقہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ فقہ کے موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں۔ یہاں تک کہ یہ سمجھا جانے لگا کہ اسلام کی تمام تعلیمات فقہ کی کتابوں میں آگئی ہیں، اسلام کو سمجھنے کے لیے فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کافی ہے۔ لیکن ذہنی شاکلہ بدل جانے کی وجہ سے یہاں بھی یہ حادثہ پیش آیا کہ فقہ کی کسی بھی کتاب میں ’کتاب الدعوۃ، والتبلیغ‘ شامل نہ ہوسکا۔ فقہ کی کتابوں میں آپ کو ہر قسم کے ابواب تفصیل کے ساتھ ملیں گے، لیکن دعوت اور تبلیغ کا باب فقہ کی کسی بھی کتاب میں نظر نہ آئے گا۔ مدوّن کتابوں کے علاوہ، دوسری جو کتابیں اسلام کے موضوعات پر لکھی گئیں، اُن کا بھی یہ حال ہے کہ اُن میں دعوت الی اللہ کا باب سرے سے موجود نہیں۔ مثلاً الغزالی کی ’احیاء علوم الدین‘، ابن تیمیہ کی ’کتاب النبوات‘، شاہ ولی اللہ کی ’حجۃ اللہ البالغہ‘، وغیرہ کا نام اس معاملے میں بطور مثال لیا جاسکتا ہے۔ ابن تیمیہ نے شتم رسول کے مسئلے پر ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تیار کردی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی اُسوہ کو لے کر وہ کوئی کتاب نہ لکھ سکے، نہ پچھلے ادوار میں کسی اور عالم نے اس موضوع پر کوئی اور کتاب لکھی۔ عباسی دور میں اسلامی فکر میں یہ انحراف آیا کہ نان پوٹکل اسلام لوگوں کی اپنی تعبیرات کے نتیجے میں پوٹکل اسلام بن گیا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دوسری قوموں کو اپنا غیر سمجھنے لگے۔ حالاں کہ یہ دعوتی اسپرٹ کے سرتاسر خلاف تھا۔ قرآن کو آپ پڑھیے تو اُس میں بار بار ’الانسان‘، اور ’الناس‘ کا ذکر ملے گا۔ گویا قرآن کے نزدیک ساری دنیا انسانوں کی دنیا ہے، ساری دنیا ’دار الانسان‘ کی حیثیت رکھتی ہے، یعنی مسلم بھی انسان اور بقیہ لوگ بھی انسان۔
یہی صحیح اسلامی ذہن ہے، لیکن عباسی دور میں جو فقہ بنی، اُس نے یہ کیا کہ دنیا کو بطور خود دو طبقوں میں بانٹ دیا— دار الاسلام اور دار الحرب۔ دار الاسلام سے مراد وہ علاقہ تھا جہاں مسلمانوں کا