The Secret Life of Mother Teresa
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۵
باوجود خدا نہیں ملا۔ وہ مسلسل طور پر روحانی فاقہ (spiritual starvation) میں جیتی رہیں۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:
Mother Teresa: Come Be My Light, by Rev Brian Kolodiejchut. نیویارک کے ٹائم میگزین (3 ستمبر 2007) نے اس کتاب کو اپنی کور اسٹوری بنایا ہے۔ اس میگزین میں مدر ٹریسا کی کہانی کے اوپر یہ عنوان قائم کیا گیا ہے— مدر ٹریسا کا ذہنی کرب (Her Agony)— میگزین کا ٹائٹل حسب ذیل ہے:
The Secret Life of Mother Teresa
مذکورہ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مدر ٹریسا کی زندگی بظاہر خدا اور روحانیت کی زندگی تھی، لیکن ان کی زندگی خدا اور روحانیت سے بالکل خالی تھی۔ اُن کے اپنے الفاظ کو لے کر نئی دہلی کے ٹائمس آف انڈیا (25 اگست 2007) نے اس کی رپورٹ پر یہ عنوان قائم کیا ہے— مدر ٹریسا زبان سے خدا کا نام لیتی رہیں، لیکن اپنے دل میں انھوں نے کبھی خدا کو نہیں پایا:
Mother Teresa had God on her lips, but never felt Him (p. 11)
مدر ٹریسا کی زندگی کا یہ دوسرا پہلو اُن کے نجی خطوط کے ذریعے سامنے آیا۔ مدر ٹریسا نے اپنے یہ خط اپنے کچھ قریبی ساتھیوں کو لکھے تھے۔ ان خطوط کی تعداد تین درجن سے زیادہ ہے۔ مدر ٹریسا نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ان خطوط کو ضائع کر دیا جائے، لیکن اُن کے یہ خطوط محفوظ رہے اور مدر ٹریسا کی وفات کے بعد ویٹکن کی اجازت سے وہ شائع کیے گئے ہیں۔ مدر ٹریسا نے اپنے ان خطوط میں کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے کہ اُنھوں نے غریبوں کے پاس خدا کو ڈھونڈھا، مگر ان کو خدا نہیں ملا۔ ایک خط میں وہ اپنے ایک ساتھی کو لکھتی ہیں کہ— خدا کے بارے میں ہمارا اشتیاق کتنا زیادہ ہے، اس کے باوجود وہ ہم سے کتنا زیادہ دور ہے:
Your longing for God is so deep, and yet He keeps Himself away from you. (Time, p. 33)
مدر ٹریسا کے مطبوعہ خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سخت تنہائی (loneliness) میں