Al-Risala · May 2008 · page 16

The Secret Life of Mother Teresa

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶

پاتی تھیں۔ انھوں نے ایک خط میں اپنے ایک ساتھی کو لکھا کہ — میری روح کے اندر اتنا زیادہ کرب اور اتنا زیادہ تاریکی کیوں ہے:

Why is there so much pain and darkness in my soul. (p. 31)

مدر ٹریسا کو اپنی پوری عمر صرف کرنے کے باوجود خدا کیوں نہیں ملا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مخلوق میں خدا کو تلاش کر رہی تھیں ۔ اور جو لوگ مخلوق میں خدا کو تلاش کرتے ہیں، ان کا انجام ہمیشہ یہی ہوا ہے ۔ خدا نے مدر ٹریسا کے اس واقعے کی صورت میں اُن لوگوں کے لیے تاریخ میں ایک عبرت ناک مثال قائم کردی ہے جو دعوہ ورک کے مقابلے میں کمیونٹی ورک کو اپنے لیے روحانی سکون کا ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں۔

قدیم زمانے میں انسان نے نیچر کو خدا سمجھ لیا۔ دریا، پہاڑ اور سورج اور چاند ہر ایک کو اُس نے خدائی کا درجہ دے دیا، مگر یہ سب مخلوقات تھیں، اس لیے قدیم زمانے کا انسان خدا کو نہ پاسکا۔ اسی طرح انسان نے بادشاہ کو اور اپنے بزرگوں کو خدا کا درجہ دے دیا۔ یہ بھی مخلوق کو خدا بنانا تھا، اس لیے انسان یہاں بھی اپنی تلاش میں ناکام رہا۔ اس کے بعد یہ سمجھا گیا کہ طبیعیاتی طاقتیں (physical forces) خدائی کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہاں بھی انسان کو خدا کی یافت نہ ہوسکی، کیوں کہ طبیعی طاقتیں مخلوقات ہیں، نہ کہ خدا۔ خدا، مخلوقات سے الگ اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے، اور اس کو علاحدہ اور مستقل وجود ہی کی حیثیت سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں انسان کی تلاش کی ناکامی کی تصویر قرآن کی ایک آیت میں دی گئی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : اور جن لوگوں نے انکار کیا، اُن کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں سراب، پیاسا اُس کو پانی خیال کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اُس کے پاس آیا تو اُس نے اُس کو کچھ نہ پایا۔ اور اُس نے وہاں اللہ کو موجود پایا، پس اُس نے اس کا حساب چکا دیا۔ اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (النور: 39)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page