Deoxyribonucleic Acid
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
یہی اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا معاملہ ہے۔ جو عورت اور مرد اس حقیقت کو سمجھ لیں، وہ آخر کار کامیاب زندگی کے مستحق قرار پائیں گے۔ اور جو لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھیں وہ صرف یہ کریں گے کہ فطرت کی طرف سے ملا ہوا قیمتی موقع کھودیں، جب کہ یہ موقع دوبارہ کسی کو ملنے والا نہیں۔ موت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ موجودہ زندگی میں انسان کو جو مختلف چیزیں ملی ہوئی تھیں، وہ بطور استحقاق نہ تھیں، بلکہ وہ صرف پرچہ ہائے امتحان (test papers) کے طور پر تھیں۔ موت کا آنا امتحان کے وقت کا ختم ہو جانا تھا۔ مدت امتحان کے ختم ہوتے ہی وہ تمام چیزیں بھی انسان سے چھن گئیں جو اس کو بطور امتحان ملی تھیں۔ اس طرح موت ہر انسان کو یہ بتاتی ہے کہ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں تم بالکل اکیلے ہو جاؤ گے۔ اُن تمام چیزوں میں سے کوئی بھی چیز تمھارا ساتھ نہ دے گی، جو موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں تم کو حاصل تھی ۔ یہ صورتِ حال بے حد سنگین ہے۔ یہ صورتِ حال آدمی کو متنبہ کر رہی ہے کہ تم موت کے بعد کے مرحلۂ حیات کے لیے تیاری کرو۔ اگر تم ضروری تیاری کے بغیر موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں داخل ہو گئے، تو اچانک تم اپنے آپ کو انتہائی بے سرو سامانی کی حالت میں پاؤ گے۔ تم اچانک دیکھو گے کہ موجودہ زندگی میں جو کچھ تم کو حاصل تھا، وہ سب تمھارا ساتھ چھوڑ چکا، اور اب نئے مرحلۂ حیات میں جینے کے لیے جو کچھ درکار ہے، وہ سرے سے تم کو حاصل ہی نہیں۔ الرساله آن لائن اب آپ ماہ نامہ الرساله (اردو اور انگریزی) کے نئے اور پرانے شمارے اور مولا نا وحید الدین خاں کی کتابیں آن لائن بھی پڑھ سکتے ہیں اور اُس کو فری ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس طرح اب آپ کے لیے ہر ماہ الرسالہ کے تازہ شماروں کا آن لائن مطالعہ ممکن ہو سکے گا۔ آن لائن مطالعے کے لیے ویب سائٹ کا پتہ درج ذیل ہے: