Al-Risala · May 2008 · page 35

Deoxyribonucleic Acid

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۵

جیسا کہ معلوم ہے، انسان کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اس کو جنت میں رکھا۔ اس وقت یہ جنت اس کو صرف عارضی مشاہدے کا دی گئی تھی۔ اس عارضی مشاہدے کے بعد انسان کو موجودہ دنیا میں بسا دیا گیا اور یہ اصول مقرر کیا گیا کہ ہر انسان کی زندگی کا ریکارڈ دیکھا جائے گا اور آخر میں انتخابی بنیاد (selective basis) پر اس کے جنت کے لیے فیصلہ کیا جائے گا۔ اس خدائی منصوبے کے تحت، انسان موجودہ دنیا میں آباد کیا گیا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ فطرت کی پروگرامنگ کے تحت، انسان ابدی احساس میں جی رہا ہے، اس کی پروگرامنگ کے اندر موت کا تصور شامل نہیں۔ لیکن آزمائشی پیریڈ کے اعتبار سے اس کو موت کا تجربہ کرنا پڑتا ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے شعور کو حرکت میں لا کر اپنے اندر ایک خصوصی صلاحیت پیدا کرے۔ یہ صلاحیت اینیٹی پروگرامنگ سوچ کی صلاحیت ہے۔ ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے باہر آ کر اپنے معاملے کو جانے۔ وہ پروگرامنگ میں شامل نہ ہونے کے باوجود موت کے معاملے کو دریافت کرے۔ اس دریافت کے بعد ہی ممکن ہے کہ ہر آدمی اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کرے اور ابدی کامیابی کا مستحق ٹھہرے۔ موجودہ پروگرامنگ کے زیر اثر آدمی یہ کر رہا ہے کہ وہ اسی موجودہ دنیا میں اپنے لیے جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ یہ گویا کہ سفر کو منزل سمجھ لینا ہے، اور ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی جو بھی تعمیر کرے گا اچانک موت اُس کا خاتمہ کر دے گی۔ آدمی سب کچھ موجودہ دنیا میں چھوڑ کر اگلی دنیا کی طرف بالکل خالی ہاتھ چلا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا ہر انسان کے لیے ایک سفر کا معاملہ ہے۔ آپ ٹرین سے سفر کریں یا ہوائی جہاز سے، آپ اپنے کو مسافر سمجھتے ہیں۔ اس لیے آپ سکون کے ساتھ اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ اگر آپ سفر کو منزل سمجھ لیں اور سفر کے دوران وہ تمام سہولتیں حاصل کرنا چاہیں جو صرف حالت قیام میں حاصل ہوتی ہیں، تو آپ کا سفر سخت تکلیف کا سفر بن جائے گا، خواہ آپ ٹرین یا ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page