Al-Risala · May 2008 · page 41

اعتراف یا سرکشی

الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱

اعتراف یا سرکشی

حضرت علی بن ابی طالب (وفات: 661ء) کا قول ہے: اتق شرّ من أحسنت إليه (اُس آدمی کے شر سے بچو، جس کے ساتھ تم نے احسان کیا ہے)۔ اسی طرح مشہور عرب شاعر المتنبّی (وفات: 965ء) کا ایک شعر یہ ہے— اگر تم شریف آدمی کے ساتھ احسان کرو تو تم اس کو اپنا مملوک بنا لو گے، اور اگر تم ذلیل آدمی کے ساتھ احسان کرو تو وہ تمھارے مقابلے میں سرکش بن جائے گا: إذا أنت أكرَمْتَ الكريمَ مَلكتَهُ وإنْ أنت أكرَمْتَ اللّئيمَ تمرّدا ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب اعتراف کا معاملہ ہے۔ جب آپ ایک آدمی کے ساتھ کوئی سلوک کرے تو اس کے بعد یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ آدمی اس سلوک کو کس کے خانے میں ڈالے، وہ کس کو اُس کا کریڈٹ (credit) دے۔

ایسی صورت حال میں جب آدمی دینے والے کو اُس کا کریڈٹ دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دینے والا اُس سے بڑا ہے اور وہ خود اُس سے چھوٹا ہے۔ یہ اپنے مقابلے میں دوسرے کی بڑائی کا اعتراف کرنا ہے۔ اس قسم کا اعتراف آدمی کی انا (ego) سے ٹکراتا ہے۔ دوسرے کا اعتراف کرنا خود اپنی نفی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس قسم کا اعتراف کسی انسان کے لیے بلاشبہ سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ اس لیے آدمی کسی کے احسان کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

یہ بے اعترافی کسی حد پر نہیں رکتی، مزید آگے بڑھ کر وہ سرکشی بن جاتی ہے۔ آدمی اپنے محسن کا درجہ گھٹانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے، تاکہ اس کی بے اعترافی لوگوں کو ایک معقول اور جائز فعل نظر آئے۔ سرکشی کی یہ قسم دراصل اپنی بے اعترافی کے جواز کے لیے ہوتی ہے، خواہ شعوری طور پر، یا غیر شعوری طور پر۔ ایسا آدمی بھول جاتا ہے کہ اعتراف سب سے بڑی نیکی ہے اور بے اعترافی سب سے بڑی بُرائی۔ اعتراف شریف آدمی کی پہچان ہے، اور بے اعترافی ذلیل آدمی کی پہچان۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2008 All issues

Printed page