اعتراف یا سرکشی
الرسالہ، مئی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲
سوال و جواب سوال علماء اور فقہاء عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے مصادر چار ہیں قرآن، سنة، سنّت علما اور فقہا عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے مصادر چار ہیں ۔ قرآن، سنّت، اجماع، قیاس ۔ آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اسلامی شریعت کے مصادر چار نہیں، بلکہ اصلا وہ تین ہیں ۔ قرآن، سنّت اور اجتہاد ۔ اس کا ماخذ کیا ہے ۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں ۔ اقتصاد لاتے ہیں ،اس رُو سے اس کے بارے میں یہ بات بھی درست (محمدذکوان ندوی ،نئی دہلی)
جواب
میں نے جو کچھ لکھا ہے ، اُس کا مآخذ قرآن ہے۔ یہ ایک بے حد بنیادی مسئلہ سے کوشش بعثت کے میں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا ماخذ قرآن ہے۔ یہ ایک بے حد بنیادی مسئلہ ہے کہ شریعت کے مصادر کیا ہیں۔ اس سوال کا جواب صرف وہی درست ہوسکتا ہے جو قرآن سے ثابت ہوتا ہو۔ قرآن سے کم درجے کا استدلال اس معاملے میں معتبر نہیں۔
شریعت کے تین مصادر ہونے کی بات قرآن کی اس آیت سے براہِ راست طور پر نکل رہی ہے: أطيعوا الله وأطيعوا الرسول، وأولى الأمر منكم (النّساء: 59)۔ اس آیت میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کا ذکر ہے۔ اس کا ماخذ بلا شبہ قرآن ہے۔ اس کے بعد اس آیت میں اطاعتِ رسول کا ذکر ہے۔ اس کا ماخذ متفقہ طور پر پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس کے بعد اس آیت میں تیسرے ماخذ کے طور پر أولى الأمر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُولوالامر (اصحابِ امر) کا نقطہ نظر معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ وہ قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 4 میں کہا گیا ہے کہ اپنے معاملات کے لیے اصحابِ امر سے رجوع کرو، تا کہ وہ استنباط کر کے تم کو رہ نمائی دے سکیں (النساء: 83) سوال قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو (النساء: 59)۔ اِس آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت کا معاملہ تو بالکل واضح ہے۔ اب سوال یہ