Al-Risala · June 2008 · page 51

حب الہی، محبت رسول

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۵۱

حب الہی، محبت رسول

مومن سے یہ مطلوب ہے کہ اس کو خدا سے اور خدا کے رسول سے نہایت گہرا قلبی تعلق ہو۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو خدا سے محبت کے درجے کا تعلق ہونا چاہیے(البقرۃ: 165)۔ جہاں تک رسول کا تعلق ہے، قرآن میں رسول کے لیے محبت کا لفظ نہیں آیا ہے، بلکہ اتباع اور اطاعت کے الفاظ آئے ہیں(آل عمران: 31)۔ تاہم حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول سے بھی محبت کے درجے کا تعلق مطلوب ہے۔ البتہ اللہ سے محبت اور رسول سے محبت کے درمیان وہی فرق پایا جائے گا جو خود اللہ اور رسول کے درمیان پایا جاتا ہے۔

حب الہی سے مراد عشق الہی نہیں ہے۔ اسی طرح محبت رسول سے مراد عشق رسول نہیں ہے۔ اس معاملے میں عشق کا لفظ قرآن اور حدیث میں اجنبی ہے۔ اس معاملے میں عشق کا تصور بلا شبہ ایک مبتد عانہ تصور ہے، جو بعد کے زمانے میں پیدا ہوا۔ محبت کا تعلق شعوری معرفت سے ہے، جبکہ عشق صرف ایک والہانہ کیفیت کا نام ہے۔ حقیقی محبت اعلی معرفت کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، جبکہ عشق ایک ایسی مبہم کیفیت کا نام ہے جس کو صرف وجد (ecstasy) اور بے خودی جیسی پر اسرار حالت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ محبت الہی کا سر چشمہ یہ ہے کہ آدمی جب بے شمار خدائی انعامات کے بارے میں سوچتا ہے، تو فطری طور پر اس کے اندر ان انعامات کے منعم کے بارے میں گہرا جذبہ اعتراف پیدا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں رسول سے محبت کا جذبہ اس اعتبار سے پیدا ہوتا ہے کہ رسول کے ذریعے ہم کو خدا کی ہدایت ملی۔ اس کے بغیر ہم خدا کی ہدایت سے محروم رہتے۔

دونوں کے درمیان فرق کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا سے محبت فوق الطبیعی جذبے کے تحت پیدا ہوتی ہے، اور رسول سے محبت طبعی جذبے کے تحت۔ خدا سے محبت، رب العالمین سے محبت ہے، اور رسول سے محبت، رب العالمین کے فرستادہ سے محبت۔

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يؤمن أحدكم حتى

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page