حب الہی، محبت رسول
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۳
اكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين۔ ایک اور روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: من أهله وماله (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، كتاب الإيمان، باب حبّ الرسول) یعنی تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اُس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ میں اس کے لیے اس کے والد سے اور اس کی اولاد سے اور اس کے اہل سے اور اس کے مال اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
محبت رسول کے بارے میں جو روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، اُن میں یہ بات بہت زیادہ قابل غور ہے کہ اُن میں سے کسی روایت میں اس قسم کے الفاظ نہیں آئے ہیں کہ تم رسول سے اُسی طرح محبت کرو، جس طرح تم خدا سے محبت کرتے ہو۔ اِس کے بجائے روایتوں میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں کہ تمھارا ایمان باللہ اُس وقت مکمل ہوگا، جب کہ تم رسول سے اُس سے بھی زیادہ محبت کرو جتنا کہ تم اپنے والد سے، اپنے اہل سے اور اپنے مال اور اولاد سے محبت کرتے ہو، یعنی ان روایتوں میں خدا کے برابر محبت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اپنی محبوبات دنیا سے زیادہ، رسول سے محبت کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں محبتوں میں ایک نوعی فرق ہے۔ حبّ الہیٰ بہ معنی تعظیم اور اجلال مراد ہے، اور حبّ رسول بہ معنی ترجیح اور تقابل مراد ہے۔ حبّ الہیٰ ایک مطلق نوعیت کی محبت ہے۔ اس کے مقابلے میں حبّ رسول کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بہ مقابلہ محبوبات دنیا مراد ہے۔ جو لوگ محبوبات دنیا سے اوپر نہ اٹھیں، وہ رسول کے ربانی مشن میں اپنے آپ کو پوری طرح وقف نہیں کر سکتے۔ جو آدمی خدا کے رسول کو خدا کے رسول کی حیثیت سے پہچانتا ہے، وہ فوراً ہی یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اصحاب رسول کی طرح رسول کے دعوتی مشن میں شامل ہو جائے۔ یہ شمولیت اعلیٰ درجے میں اُسی وقت ہوسکتی ہے، جب آدمی کو رسول کے ساتھ محبت کے درجے کا تعلق پیدا ہو جائے۔
رسول سے محبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول سے عاشقانہ اور والہانہ تعلق ہو، جیسا کہ کسی نعت خواں، یاقوّال میں بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ رسول سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ رسول کے دعوتی مشن سے گہرا لگاؤ ہو۔ ہر دوسری چیز کو ثانوی (secondary) بنا کر آدمی رسول کے دعوتی مشن کو اپنا دعوتی مشن بنالے، جس طرح خود رسول نے اپنی زندگی میں کیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues