Al-Risala · June 2008 · page 5

سب سے بڑا سوال

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۵

سب سے بڑا سوال

انسان بہترین جسم اور اعلیٰ دماغ کے ساتھ اس دنیا میں آتا ہے۔ اُس کے لیے سوچنے کی سب سے پہلی بات یہ ہے کہ وہ کیسے بنا۔ پھر وہ جس دنیا میں آتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ دنیا استثنائی طور پر اس کے لیے ایک انتہائی موافق دنیا ہے۔ یہاں وہ ایک ایسی زمین کو پاتا ہے جس پر وہ بُرّ راحت پر رہے۔ یہاں سورج ہے جو مسلسل طور پر اُس کو روشنی اور انرجی دے رہا ہے۔ یہاں زرخیز مٹی ہے جو اِس کے لیے مختلف قسم کی غذائیں اگاتی ہے۔ یہاں وافر مقدار میں پانی ہے جو زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہاں ہوا ہے جو مسلسل طور پر اُس کو آکسیجن سپلائی کر رہی ہے۔

یہ سیارہ زمین جس پر انسان آباد ہے، وہ بے شمار طریقوں سے اس کا مددگار بنا ہوا ہے۔ یہاں نہایت اعلیٰ قسم کا لائف سپورٹ سسٹم ہے، جس کے بغیر انسان کے لیے یہاں زندہ رہنا اور ترقی کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس دنیا میں اتنی زیادہ نعمتیں ملی ہوئی ہیں جن کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ ان نعمتوں میں سے صرف کچھ نعمتوں کو سائنس نے دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت کردہ نعمتیں بھی اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی انسان ساری عمر مطالعہ کرے، تب بھی وہ کامل طور پر اُن سے واقف نہیں ہو سکتا۔ یہ صورتِ حال اپنے آپ میں ایک سوال ہے، اتنا بڑا سوال کہ کوئی بھی عورت یا مرد اِس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انسان کا اپنا حیرت ناک وجود اور آس پاس کی حسین دنیا مجبور کر رہی ہے کہ ہر انسان ان سوالات پر غور کرے اور ان کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرے۔

یہ سوالات گویا ایک خاموش پکار ہیں ــــ مجھ کو کس نے بنایا۔ اس دنیا کا بنانے والا کون ہے۔ وہ کون ہے جس نے مجھ کو اتنا زیادہ بامعنی قسم کا لائف سپورٹ سسٹم پیدا کر کے دے دیا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز ایک عظیم نعمت ہے، اور ہر نعمت زبانِ حال سے پکار رہی ہے اور دعوت دے رہی ہے کہ اس معاملے پر غور کرو اور دریافت کرو کہ ان نعمتوں (blessings) کا مُنْعِم (giver) کون ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین سوال ہے جو ان سوالات کے ساتھ جُڑا ہوا ہے، وہ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page