سب سے بڑا سوال
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۶
کہ انسان انتہائی قیمتی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اُس کا دماغ معجزاتی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے لامحدود ترقی حاصل کرنا چاہتا ہے، بظاہر یہ سب کچھ ابدی معلوم ہوتا ہے، لیکن ابھی وہ اپنے سفر حیات کے درمیان میں ہوتا ہے کہ سوسال سے بھی کم عرصے میں کوئی نامعلوم طاقت مداخلت کرتی ہے۔ وہ اُس پر موت وارد کر کے اُس کو موجودہ دنیا سے اٹھا کر کسی اور دنیا میں پہنچادیتی ہے۔
یہ تمام سوالات نہایت گمبھیر سوالات ہیں، وہ لازمی طور پر اپنا ایک جواب چاہتے ہیں۔ کوئی عورت یا مرد جو اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہو، وہ ان سوالات کا جواب معلوم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان سوالات کا صحیح جواب ہی ہماری موجودہ زندگی کی درست توجیہہ کرتا ہے، اور اسی کے ساتھ ان سوالات کا جواب ہی ہم کو یہ بتاتا ہے کہ حقیقی طور پر زندگی کو بامعنی اور کامیاب بنانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
ان سوالات پر پوری تاریخ میں غور وفکر کیا جاتا رہا ہے۔ انتہائی بڑے بڑے دماغ ان سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم طور پر کوشش کرتے رہے ہیں۔ سب سے زیادہ جس جواب نے عالمی دماغوں کو مطمئن کیا ہے، وہ یہ کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے، وہی اس کا خالق ہے، وہی اس کا مالک ہے، وہی اس کا انتظام کر رہا ہے، وہی اپنی عظیم طاقتوں کے ساتھ اس پوری دنیا کو سنبھالے ہوئے ہے۔
پھر یہ کہ اس دنیا کو خدا نے ایک خصوصی تخلیقی پلان (creation plan) کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس پلان کے مطابق ، انسان ایک ابدی مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن انسان کو پیدا کرنے والے نے اس کی زندگی کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ اس کا بہت تھوڑا حصہ موت سے قبل کے مرحلہ حیات میں ہے، اور اس کا زیادہ بڑا حصہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں۔ آدمی جب اس دنیا میں مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اگلی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے، تا کہ وہ اپنی بقیہ زندگی وہاں کے ابدی ماحول میں گزارے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues