تواصی بالحق، تواصی بالصبر
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۸
یہ معرفت ایک انسان کے لیے ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی نے اپنی تلاش کا جواب پالیا۔ آدمی کو اپنی فکری سرگرمیوں کے لیے صحیح فریم ورک مل گیا۔ آدمی کو ظاہری بصارت کے ساتھ، داخلی بصیرت کی روشنی حاصل ہوگئی۔ آدمی کو اپنی ذہنی تگ و دو کا مرکز حاصل ہوگیا۔ آدمی کے اندر اُس ہستی کا شعور پیدا ہوگیا، جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرے اور جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرے۔ اس کورس کا دوسرا جُز عمل صالح ہے۔ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو عین حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ عمل صالح کی اس فہرست میں ذکر و دعا، عبادات، اخلاق اور معاملات، وغیرہ سب شامل ہیں۔ ہر وہ کام جس میں انسان کا جسمانی وجود شامل ہوتا ہے، وہ سب اُس کا عمل ہے اور یہ مطلوب ہے کہ ان تمام اعمال کو صالحیت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی عمل کی دو قسمیں ہیں— ایک، خود رخی (self-oriented) عمل اور دوسرے، خدا رخی (God-oriented) عمل۔ اسلامی شریعت میں خود رخی عمل کا دوسرا نام غیر صالح عمل ہے اور خدا رخی عمل کا دوسرا نام صالح عمل۔ اس کورس کا تیسرا جُز تواصی ہے۔ تواصی میں مشارکت پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے ایک دوسرے کو نصیحت کرنا۔ دو آدمی ایک دوسرے کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت، سنجیدہ موضوعات پر ایک دوسرے کے ساتھ جو گفتگو کریں، اُس کانام تواصی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ تواصی نام ہے باہمی تبادلۂ خیال (mutual discussion) کا۔ دینی موضوعات پر باہمی ڈسکشن کسی مومن کی زندگی کا اُسی طرح ایک ناگزیر حصہ ہے، جس طرح ایمان اور عمل صالح۔
یہ باہمی تبادلۂ خیال، یا انٹلکچول ایکسچینج (intellectual exchange) ذہنی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹلکچول ایکسچینج کے بغیر ذہنی ترقی بالکل ممکن نہیں۔ جب دو آدمی سنجیدگی کے ساتھ ایک موضوع پر تبادلۂ خیال کریں تو دو آدمیوں کی گفتگو کے دوران ایک تیسرا تصور ایمرج (emerge) کرتا ہے، جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے، یعنی چنگاری۔ اسی طرح باہمی تبادلۂ خیال دونوں کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے۔ اہل ایمان کے لیے تو وصی کے اس عمل کا موضوع صرف دو ہے، اور وہ ہے— حق اور صبر۔ حق
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues