Al-Risala · June 2008 · page 7

تواصی بالحق، تواصی بالصبر

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۷

تواصی بالحق، تواصی بالصبر

27 اگست 2007 کو میں نے رات میں ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آواز آئی۔ اُس نے کہا کہ اٹھو۔ میں نے کہا کہ میں تو اٹھا ہوا ہوں۔ اُس نے کہا ’تواصی بالحق‘ کو جانو، ’تواصی بالحق‘ کو جانو، ’تواصی بالحق‘ کو جانو، میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے۔ اُس نے کہا، ’تواصی بالحق‘ کو جانو، میں نے کہا کہ آپ مجھے بتائیے۔ اُس نے کچھ دیر تک مجھے سمجھایا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو کہا، میں اس کو سمجھ نہیں پایا۔ اُس نے کہا کہ اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ تواصی بالحق کو سمجھو۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہ لفظ نہ میرے مطالعے میں تھا اور نہ مجھے اُس کا مفہوم معلوم تھا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں ’تواصی بالحق‘ کو کیسے سمجھوں۔ اس میں آپ میری مدد فرمائیں (حبیب محمد، حیدر آباد) ’تواصی‘ کا لفظ قرآن کی سورہ نمبر 103 میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: زمانہ گواہ ہے کہ بے شک، انسان گھاٹے میں ہے۔ سوا اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی:

History is a witness that man is in loss. Except those who believe and do good, and exhort on each other truth, and exhort on each other patience. قرآن کی اِس سورہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ دو صحابی جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو وہ یاد دہانی کے لیے آپس میں اس سورہ کا تذکرہ کرتے تھے (عن أبی حُذیفه قال : كان الرّجلان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا التقيا، لم يتفرّقا حتّى يقرأ أحدهما على الآخر سورة العصر، ثمّ يسلم أحدهما على الآخر، رواه البيهقي في شعب الإيمان)۔

قرآن کی اس سورہ میں مومنانہ زندگی کا کورس بتایا گیا ہے۔ یہ کورس بنیادی طور پر تین اجزا پر مشتمل ہے۔ ایمان اور عمل اور تواصی۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی کو شعور کی سطح پر خدا کی معرفت حاصل ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page