Al-Risala · June 2008 · page 10

تواصی بالحق، تواصی بالصبر

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۱۰

سماجی تعلقات کے درمیان سب سے زیادہ طاقت ور رشتہ خونی رشتہ ہوتا ہے۔ یہ خونی رشتہ انٹلیکچول ایکسینج کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہمی تبادلۂ خیال کے لیے دونوں فریق کے درمیان باہمی موانست بے حد ضروری ہے۔ اور خاندانی افراد کے درمیان یہ موانست کامل درجے میں پائی جاتی ہے۔ صحت مند تبادلۂ خیال کے لیے ایک لازمی شرط ہے، اور وہ یہ ہے کہ ساری گفتگو 'حق' اور 'صبر' کے موضوع پر کی جائے۔ دیگر موضوعات سے مکمل طور پر پرہیز کیا جائے۔ دیگر موضوعات مثلاً نفرت اور شکایت کا چرچا، دنیوی اہمیت کی چیزیں اور سطحی موضوعات پر تفریحی باتیں، وغیرہ۔ یہ سب اس معاملے میں ڈسٹریکشن ہیں۔ اور ڈسٹریکشن اتنی زیادہ تباہ کن چیز ہے جس کا تحمل ایک حق پرست آدمی کبھی نہیں کر سکتا۔ قرآن کی سورہ نمبر 33 میں اہل بیت رسول کے بارے میں ایک آیت آئی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت، ويطهركم تطهيراً (یعنی الله تو چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دور کرے اور تم کو پوری طرح پاک کر دے (الأحزاب: 33)۔ اس آیت میں بظاہر اہل بیتِ رسول کا ذکر ہے، مگر یہاں پرٹکلر ریفرنس (particular reference) میں ایک جنرل تعلیم دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہاں ہر صاحب ایمان کے اہل بیت مراد ہیں۔ اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر ہے— رجس کو دور کرنا اور تطہیر کرنا۔ بظاہر ان دونوں عمل کو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو تواصی کہاگیا ہے۔ تواصی کا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے لیے کیا۔ اسی طرح ہر اہل ایمان عورت اور مرد کو اپنے اہل بیت پر تواصی کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔

اہل بیت کی تواصی سے مراد سادہ طور پر خاندان کی اصلاح نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مومن خاندان کے اندر یہ ماحول ہونا چاہیے کہ افراد خاندان ایک دوسرے کے ساتھ تواصی میں شریک ہو جائیں۔ ہر گھر میں ایسا ہونا چاہیے کہ لوگوں کے درمیان چرچا یا تبادلۂ خیال صرف دو موضوعات پر ہو، یعنی حق کے موضوع پر اور صبر کے موضوع پر۔ ہر خاندان میں یہ ماحول ہو کہ دنیوی چیزیں ضرورت کے خانے میں ڈال دی جائیں، دنیوی چیزیں اہل خاندان کے درمیان چرچا کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page