تواصی بالحق، تواصی بالصبر
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱
موضوع نہ ہوں، بلکہ چرچا کا موضوع صرف وہ چیزیں ہوں جن کا تعلق دین اور آخرت سے ہو۔ مزید غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ہر انسان کے لیے خدا نے اُس کے اہلِ بیت کی صورت میں ایک فطری گروپ فراہم کر دیا ہے، جس کے ذریعے وہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی عبادت کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے بعد ہر مومن کی ایک اور ضرورت ہے اور وہ ہے اس کا ذہنی ارتقا۔ اس ذہنی ارتقا میں مطالعہ اور مشاہدہ کے علاوہ اِنٹلکچول ایکسینج بہت زیادہ اہم ہے۔ کسی خاندان کے افراد کا سب سے بڑا رول یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے اِنٹلکچول پارٹنر (intellectual partners) بن جائیں، جس طرح کسی اکیڈمی میں کچھ اسکالر ہوں تو وہاں وہ شاپنگ اور آؤٹنگ کی بات نہیں کرتے، بلکہ وہاں وہ سنجیدہ علمی موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ یہی معاملہ ہر مومن خاندان کا ہونا چاہیے۔ مومن خاندان کے ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے جب بھی بات کریں تو وہ صرف علمی اور دینی موضوعات پر بات کریں۔ دوسرے موضوعات کو قصداً وہ اپنے لیے چرچا کا موضوع نہ بنائیں۔ ہر مومن فیملی کو چاہیے کہ وہ باہمی تبادلۂ خیال کے ذریعے یہ کوشش کرے کہ کسی فردِ خاندان کے اندر منفی جذبات پرورش نہ پائیں۔ ہر ایک مثبت ذہن کے ساتھ جینے والا انسان بن جائے۔ بچوں کی اصلاح کا بھی یہی سب سے زیادہ کارگر ذریعہ ہے۔ عام طور پر ماں باپ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی خوشی پوری کرتے رہیں، مگر یہ بچوں کے ساتھ محبت نہیں بلکہ وہ بچوں کے ساتھ دشمنی ہے۔ اس معاملے میں ایک حدیثِ رسول، والدین کے لیے رہ نما اصول کی حیثیت رکھتی ہے: مان حلّ والِدٌ ولده من نُحْلٍ أفضلَ من أدبٍ حسنٍ ۔ یعنی کسی والد کی طرف سے اٌس کی اولاد کے لیے سب سے اچھا عطیہ یہ ہے کہ وہ اُس کو اچھے اخلاق اور آدابِ حیات کی تعلیم دے(الترمذی، کتاب البر)۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کا یہ مقصد اس طرح حاصل نہیں ہوسکتا کہ والدین اپنے بچوں کو یہ کرو اور وہ نہ کرو (do's and don'ts) کی زبان میں کچھ ہدایات دیتے رہیں، بلکہ یہ مقصد صرف اس طرح حاصل ہوسکتا ہے کہ پورے گھر کے اندر تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا ماحول قائم ہوجائے۔ گھر کے اندر چرچا کا موضوع صرف ایک ہو اور وہ حق اور صبر ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues