Al-Risala · June 2008 · page 18

ذہنی سکون کا راز

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸

business. Imade a lot of money but I still had no peace in my life. There was still something missing. New Delhi, Charlse Duke Jr. February 21, 2008 یہ معاملہ صرف ڈاکٹر چارلس ڈیوک کا نہیں، یہی موجودہ زمانے میں تمام لوگوں کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دولت اور شہرت اور اقتدار حاصل کرنے کے مواقع بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگ نہایت تیزی کے ساتھ ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ان چیزوں کو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سپر اچیو رس (super achievers) کہا جاتا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ تمام سپر اچیو رکا کیس سپر ناکامی (super failure) کا کیس تھا۔ سب کچھ پانے کے باوجود ان لوگوں کو داخلی مسرت حاصل نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ مایوسی کا احساس لے کر مر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کا زمانہ ہے۔ اس صورت حال نے موجودہ زمانے میں ایک نئی اصطلاح پیدا کی ہے جس کو اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے (super achievers) کہا جاتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر بڑی کامیابی آخر میں صرف بڑی ناکامی (super failure) بن گئی۔ اس قسم کے لوگ نئے قسم کے سنگین مسائل میں مبتلا ہو گئے۔ مثلاً مہلک بیماریاں، وغیرہ۔

انھیں نئے مسائل میں سے ایک ٹینشن (tension) یا اسٹریس (stress) ہے۔ لوگوں کے پاس دولت اور شہرت اور اقتدار سب کچھ موجود ہے، لیکن ان ظاہری کامیابیوں کے باوجود لوگ مسلسل ٹینشن اور اسٹریس میں مبتلا رہتے ہیں۔ زیادہ دولت صرف زیادہ بیماری کا سبب بن رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ ریسرچ میڈیکل سائنس میں ہورہی ہے، تا کہ نئی نئی بیماریوں کا علاج دریافت کیا جاسکے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نیا بزنس شروع ہوگیا ہے جس کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کہا جاتا ہے۔ ان اداروں میں بڑے بڑے ماہرین، لوگوں کو اسٹریس سے نجات دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ لوگوں کا ٹینشن اور اسٹریس بدستور بڑھتا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا خطرہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ نہیں ہے، بلکہ ٹینشن اور اسٹریس کا خطرہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page