ذہنی سکون کا راز
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹
یہ صورت حال ہم کو قرآن کی ایک آیت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: ألا بذكر الله تطمئن القلوب (الرّعد: 28) اسی بات کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمایا: اللهم لا عيش إلّا عيش الآخرة (صحيح البخاري، كتاب الرّقاق) اس کا مطلب یہ ہے کہ خدائے برتر ہی کو اپنا سپریم کنسرن (supreme concern) بنانے سے انسان کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اپنی پسند کی جو زندگی انسان چاہتا ہے، وہ صرف موت کے بعد کے دور حیات میں کسی انسان کو ملے گی۔ موت سے پہلے کے دور حیات میں کسی کو اپنی پسند کی زندگی ملنے والی نہیں۔ اس معاملے کا براہ راست تعلق خالق کے کریشن پلان (creation plan of God) سے ہے۔ خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان گاہ (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کسی کے لیے بھی اپنی آرزوؤں کی تکمیل کی جگہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ دنیا ہر عورت اور مرد کے لیے سفر کا مرحلہ ہے، اور بعد کو آنے والی آخرت کی دنیا اس کی ابدی منزل ہے۔
آپ، بس یا ٹرین یا ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہوں اور اس کے اندر آپ گھر والی سہولتیں حاصل کرنا چاہیں، تو آپ اس کو حاصل نہ کرسکیں گے۔ کیوں کہ سواری صرف سواری ہے، وہ گھر کا بدل نہیں۔ اس طرح موجودہ دنیا میں خواہشوں کی تکمیل (fulfillment) کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ جو آدمی اپنی خواہشوں کی تکمیل چاہتا ہو، اس کو آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: لمثل هذا فليعمل العاملون (الصّافات: 61)۔ دعوتی لٹریچر مفت حاصل کیجئے مساجد کے ائمہ حضرات دعوتی مقصد کے لیے اردو اور انگریزی پمفلٹس (دعوت الی اللہ، ریلیٹی آف لائف، وغیرہ) مفت حاصل کر سکتے ہیں۔
GOODWORD BOOKS 1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Tel. 24355729, 24355454 email: info@goodwordbooks.com
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues