مسیحی مذہب کے عقائد
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱
مسیحی مذہب کے عقائد
مارک جے ایچ کلاسین (Mark J. H. Klassen) کناڈا کے ایک مسیحی عالم ہیں۔ وہ کناڈا کی ایک کمپنی (Kalora Interiors International Inc.) کے نمائندہ (representative) کے طور پر نئی دہلی میں مقیم ہیں۔ وہ 6 مارچ 2008 کو الرسالہ کے دفتر میں آئے۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر اقبال پردھان بھی موجود تھے۔ اُن سے دیر تک مسیحی مذہب اور اسلام کے بارے میں گفتگو ہوئی۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ میں حضرت مسیح کو خدا کا پیغمبر مانتا ہوں، لیکن میں اُن کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا۔ میں نے کہا کہ موجودہ مسیحیت (Christianity) کے تین بنیادی عقیدے ہیں— تثلیث (Trinity)، ابنیّتِ مسیح (Sonship)، کفّارہ (Atonement)۔ مگر یہ تینوں عقیدے نئے عہد نامہ (New Testament) کے اُن چار ابواب میں موجود نہیں ہیں جن کو گاسپل (Gospel) کہا جاتا ہے، حالاں کہ یہی چار ابواب مسیحیت کے مستند مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان عقیدوں کو مسیحی چرچ نے چوتھی صدی عیسوی میں وضع کیا، حضرت مسیح کی اصل تعلیمات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ گاسپل کے ایک راوی یوحنّا (John) ہیں، اور یوحنّا کے خطوط (Epistles) میں ابنیّت (Sonship) کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ ان کے بیگ میں بائبل کا ایک نسخہ موجود تھا۔ انھوں نے یہ نسخہ نکالا اور اس کی یہ آیت مجھے دکھائی:
جو کچھ ہم نے دیکھا اور سنا ہے، تمھیں بھی اس کی خبر دیتے ہیں، تاکہ تم بھی ہمارے ساتھ شریک ہو، اور ہماری شرکت باپ کے ساتھ اور اس کے بیٹے یسوع مسیح کے ساتھ ہے: That which we have seen and heard, we declare to you, that you also may have fellowship with us; and truly our fellowship is with the Father and with His Son Jesus Christ (The First Epistle of John: 3).
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues