مسیحی مذہب کے عقائد
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۲۲
میں نے کہا کہ گا سپل (Gospel) اور خطوط (Epistles) میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ گا سپل ، نئے عہد نامے کا وہ حصہ ہے جس میں مسیح کے براہِ راست شاگردوں نے مسیح کی زندگی اور ان کی تعلیمات کے بارے میں روایت کیا ہے:
Gospel: The history of the life and teachings of Jesus. انھوں نے کہا کہ یہ خط بھی اُسی یوحنا (John) کا ہے جو گا سپل کے چار راویوں میں سے ایک راوی ہیں۔ میں نے کہا کہ گا سپل اور خطوط میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ کہ گا سپل میں خود مسیح کی اپنی تعلیمات بیان کی گئی ہیں، مگر خطوط کا معاملہ یہ ہے کہ ان کو مسیح کے بعد ان کے کچھ متبعین (followers) نے ان کو اپنی طرف سے لکھا۔ ایسی حالت میں خطوط کا درجہ وہ نہیں ہو سکتا جو گا سپل کا درجہ ہے۔ یہ گفتگو کئی لوگوں کی موجودگی میں کافی دیر تک جاری رہی۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ جب ہم بائبل اور چرچ کے درمیان فرق کو دیکھتے ہیں تو خود ہم کو مایوسی ہوتی ہے: When we see the difference between the Bible and the Church, we are dissappointed. مجھے اس طرح کے تجربات بار بار ہوئے ہیں۔ میرا احساس یہ ہے کہ مسیحی لوگ اندر سے کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں، لیکن سماجی تقاضے کی بنا پر وہ مسیحیت سے جڑے رہتے ہیں۔ یہ موجودہ مسیحی مذہب کی بہت بڑی کم زوری ہے۔ اس اعتبار سے مسلم داعیوں کے لیے مسیحی حضرات کے درمیان دعوت الی اللہ کا بہت اچھا موقع تھا، لیکن مسلم علما کی ایک غلطی کی وجہ سے یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔ وہ غلطی یہ کہ انھوں نے مسیحی حضرات کو اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے دعوت کا انداز اختیار نہیں کیا، بلکہ مناظرہ (debate) کا انداز اختیار کیا۔
دعوت کے انداز سے مدعو کے دل میں قربت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مناظرے کا انداز مدعو کے اندر توحش کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ مناظرے کا انداز مسلمانوں کو خوش کر سکتا ہے، لیکن وہ مدعو کو متاثر نہیں کرتا۔ یہ غلطی نو آبادیاتی دور میں شروع ہوئی تھی، مگر بد قسمتی سے وہ آج تک جاری ہے۔ مناظرہ بازی سے صرف منفی نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور دعوت سے مثبت نتیجہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues