Be happy here and now.
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴
پہلے بھی مخلوقات تھیں، اور اب بھی جذباتِ عبودیت کا مرکز مخلوقات ہیں۔
موجودہ زمانے کے انسان کا نظریہ یہ ہے کہ اپنے آج (now) میں خوش رہو، کل کی فکر چھوڑ دو۔ یہ ’’آج‘‘ کیا ہے۔ یہ وہی سامانِ حیات ہے جو ہم کو نیچر کی صورت میں ملا ہے۔ یہ سامانِ حیات خدا کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ تفریح کے سامانوں میں سے کوئی بھی سامان انسان نے خود نہیں بنایا، وہ اس کو خالق کی طرف سے ملا ہے۔ یہ خالق ہے جو ساری چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ آج کے انسان نے یہ کیا کہ اُس نے نعمت (blessing) کو لیا، اور منعم (giver) کو چھوڑ دیا۔ یعنی خالق رُخی نظریے کو ترک کرکے، مخلوق رُخی نظریے کو اختیار کرلیا۔
انسان کی یہ فطرت ہے کہ اُس کو جب کوئی چیز ملے تو وہ دینے والے کا اعتراف کرے۔ احساسِ تشکر (gratitude) انسان کی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے دور بارہ یہ کیا کہ اُس نے اپنے احساسِ تشکر کو خالق کے بجائے مخلوق کی طرف موڑ دیا۔ جو قلبی اعتراف اس کو مُنعم کے لیے پیش کرنا چاہیے تھا، اُس کو وہ مُنعم کی پیدا کردہ مخلوق کے لیے پیش کرنے لگا۔ آج کل کے لوگوں کی باتیں سنیے، یا ان کی تحریریں پڑھیے تو بار بار اس قسم کے نمونے سامنے آتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے روزانہ کے تجربات میں اس کے نمونے دیکھ سکتا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں ایک حوالہ نقل کروں گا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (27 جنوری 2008) میں اس موضوع پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے کا نام ڈونا (Donna Devane) ہے۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے:
Be happy here and now.
آج کل کے زمانے میں انسان ایک عام مسئلے سے دوچار ہے۔ وہ ٹینشن یا اسٹریس (stress) ہے۔ یہ ٹینشن کیوں ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کو اُس کی مطلوب خوراک نہیں دے رہا ہے۔ وہ خالق کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بھرپور انتفاع کر رہا ہے، لیکن وہ خالق کا اعتراف نہیں کرتا۔ یہ بے اعترافی، یا عدم تشکر فطرت کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ انسان کے اندر شعوری یا غیر شعوری
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues