Be happy here and now.
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵
طور پر ٹینشن یا اسٹریس کا سبب بنا ہوا ہے۔ موجودہ انسان نے اس کا یہ غیر فطری حل دریافت کیا ہے کہ دینے والے کے بجائے، خود دی ہوئی چیزوں پر تشکر کا اظہار کرنا۔ مذکورہ مضمون اسی جدید ذہن کی نمائندگی کر رہا ہے۔ چناں چہ اس میں کہا گیا ہے کہ ــ تم ملی ہوئی چیزوں پر خوب تشکر کا اظہار کر اور تم ٹینشن سے بچ جاؤ گے۔ اس سلسلے میں مضمون نگار کے الفاظ یہ ہیں: Gratitude feels my soul as I enjoy my computer, more about my home, enjoy the feeling of a hug from my daughter. There is so much to be grateful for each moment of each day. I find that where gratitude goes, joy flows, spend a few moments throughout the day with thought shifter statements. A few of the thought shifter statements that I use are— I am so happy and joyful to believe. I am so happy and grateful for this wonderful mind, and body that allows me to enjoy touch, taste, sound, and movement. I am so happy and grateful for my family, and friends, and the love we share. I am so happy and grateful for my home and utilities. I am so happy and grateful for my computer, my internet, my ability to type and share with friends all over the world. انسان کے اندر جس طرح بھوک اور پیاس کا طاقت ور جذبہ موجود ہے، اِسی طرح یہ جذبہ بھی انسان کے اندر نہایت طاقت ور شکل میں موجود ہے کہ وہ اپنے محسن کے احسان کا اعتراف کرے۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان اس کا تحمّل نہیں کر سکتا کہ اُس کو کسی سے کوئی بڑی چیز ملے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ آدمی کا فطری مزاج یہ ہے کہ جب اُس کو کسی سے کوئی بڑا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی پوری شخصیت چاہتی ہے کہ چیخ کرو وہ اس کا اعتراف کرے۔ یہ انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں۔
انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ سب خدا کا عطیہ ہے۔ خواہ اس کا اپنا وجود ہو یا اس کے باہر کا وہ پورا نظام جس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، سب کا سب اس خدا کی طرف سے یک طرفہ عطیہ کے طور پر ملا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ ان تمام عطیات (blessings) کے لیے ان کے مُعطی (giver) کا بھر پور اعتراف کرے۔ ان عطیات
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues